مجلس اتحادالمسلمین کا آج 67 واں یوم تاسیس، کامیابی کی طویل داستان۔ تعلیمی اداروں کا قیام ایک عظیم الشان کارنامہ

حیدرآباد (ڈاکٹر شجاعت علی صوفی) حیدرآباد کے بزرگوں نے اس تاثر کا اظہار کیا ہے کہ سقوط حیدرآباد کے بعد مسلمانان دکن کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہوگئے تھے۔ تمام صلاحیتوں کے باوجود ملت اسلامیہ ایک کمزور قوم کی طرح کسی غیبی مدد کے انتظار میں تھی۔

ویسے حالات میں پروردگار نے فخر ملت مولانا عبدالواحد اویسی کی شکل میں ایک عظیم بندے کو ملت مظلومہ کی مدد کے لئے بھیجا جو ایک غیر معمولی وکیل تھے۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ مسلمانان دکن کی سیاسی طاقت فخر ملت کی مرہون منت ہے۔ آج حیدرآباد کے بشمول ملک کے مختلف مقامات پر مجلس کے قیام کے 67 سال مکمل ہونے پر یوم تاسیس منایا جارہا ہے۔

مجلس اتحادالمسلمین کے تمام قائدین بشمول بیرسٹر اسد الدین اویسی اس بات پر متفق ہیں کہ مجلس بزرگوں کی محنت و جد و جہد اور عوام کے اتحاد کی نشانی ہے۔ فخر ملت حضرت عبد الواحد اویسی نے مجلس کا دور اندیشی کے ساتھ احیاء کیا۔ سالار ملت الحاج سلطان صلاح الدین اویسی نے اسے بلندیوں پر پہنچایا۔ مجلس کے کارکنان یہ کہتے ہیں کہ ہمارا کام ہے کہ جماعت مزید وسعت دے۔

ہمارا کام ہے کہ جماعت کو مزید وسعت دیں۔ مجلس بھارت میں انمول ہے، ہماری پہچان اور ہماری شناخت ہے۔ فرقہ پرستوں کے اشاروں پر اور آر ایس ایس کے حکم پر بعض لوگ مجلس کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور بعض لوگ اپنی انانیت کیلئے اجتماعیت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ مجلس کے چاہنے والے نام نہاد سیاسی جماعتوں کے دم چھلے اور چھوٹی بی جے پی کے لوگ سیاسی قلعہ کو توڑنا چاہتے ہیں۔

ان کا احساس ہے کہ شخصیتیں ختم ہو جائیں گی لیکن جماعت باقی رہے گی۔ یہ بات انتہائی افسوس ناک ہے کہ بھارت میں ہر چیز کو مذہب سے جوڑ دیا گیا ہے۔ صرف نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ مجلس کے مخالفین بھی ان لوگوں سے ملے ہوئے ہیں۔ مجلس کے ہمنوا یہ پوچھتے ہیں کہ کیا ملک کے موجودہ حالات میں وہ لوگ نظر نہیں آرہے ہیں جو ملک کی بربادی کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ صفحہ ہستی سے مٹانے، شناخت کو چھین لینے، اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور مذہب سے دور کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایسے میں ضروری ہے کہ مجلس کو مزید مضبوط و مستحکم بنایا جائے۔ طاقتور جماعت ہوگی تو اس کے ذریعہ ظالم طاقتوں سے مقابلہ بھی مضبوط ہوگا۔ شہر میں جگہ جگہ مجلس کے 67 سالہ جشن کے ضمن میں سبز پرچم، بیانرس اور ہور ڈنگس لگائے گئے ہیں۔ مجلس کا دعوی ہے کہ اس نے حیدرآباد میں امن کو برقرار رکھا۔ فرقہ پرستوں کو شہر کی فضا خراب کرنے سے روکے رکھا۔ حیدر آباد پارلیمان کی نشست صرف مجلس کی نہیں ہے بلکہ بھارت کے غریب اور مظلوموں کی پہچان ہے۔

ان کی جماعت غیور اور بے بس لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔ غیور نوجوانوں کی آواز ہے۔ اپنی طاقت کو مزید مضبوط کرنا پڑے گا۔ مجلس کو کمزور کرنے کے لئے بہت لوگ اپنے ارمان ساتھ لے کر چلے گئے۔عوامی خدمت کا مجلس کے پاس طویل ٹریک ریکارڈ ہے۔ہمارے بزرگوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ کوئی بھی کسی کام کے لئے رجوع ہو تو اس کا مذہب نہ دیکھیں بلکہ انسانیت کی بنیاد پر خدمت کریں۔ دار السلام گواہ ہے کہ یہاں پر جو لوگ اپنے مقصد کے لئے آتے ہیں ان کی خدمت بلا لحاظ مذہب و ملت کی جاتی ہے۔

مجلس کبھی بھی کسی کے ساتھ بھید بھاو نہیں کرتی۔ سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جاتا ہے۔ تلنگانہ کے بشمول مہاراشٹرا، بہار، اتر پردیش،کرناٹک کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں سے سینکڑوں کارکن اس تقریب میں شرکت کریں گے۔ مجلس کے ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، اراکین بلدیہ اور دیگر ایوانوں میں عوامی نمائندے منتخب ہوں گے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔اسے عملی جامہ پہنادیا گیا ہے۔

فخر ملت جامعہ نظامیہ کے ایک بہترین عالم دین اور قابل قانون دان بھی تھے جنہوں نے برسوں قانونی جدوجہد کر کے دار السلام کو حاصل کیا۔ حکومت کے قبضہ کو برخاست کر کے کرایہ وصول کیا اور ان کرایوں سے ملگیوں کی تعمیر کی۔ فخر ملت نے کہا تھا کہ مجلس کے ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، اراکین بلدیہ اور دیگر ایوانوں میں عوامی نمائندے منتخب ہوں گے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے قیام کا جو خواب دیکھا تھا۔اسے عملی جامہ پہنادیا گیا ہے۔



ہمیں فالو کریں


Google News

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *