
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے گجرات کے جام نگر میں ان کے خلاف درج مقدمے کو خارج کر دیا۔
یہ مقدمہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس پر الزام تھا کہ اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں واضح کیا کہ اس پوسٹ میں ایسا کوئی مواد موجود نہیں تھا جو سماجی تفرقہ پیدا کرے۔
عدالت نے اس موقع پر اظہار رائے کی آزادی کے آئینی حق پر بھی زور دیا اور کہا کہ پولیس اور عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ اس بنیادی حق کا تحفظ کریں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی بھی شہری کی آزادی کو غیر ضروری طور پر محدود نہیں کیا جانا چاہیے اور آزادیٔ اظہار کو دبانے کے لیے بے بنیاد مقدمات درج کرنا مناسب نہیں۔
اس فیصلے کو آزادیٔ اظہار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لحاظ سے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ عمران پرتاپ گڑھی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔