
غزہ: غزہ کے شمالی اور جنوب میں سحری کے وقت اسرائیل کے تازہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 71 فلسطینی شہید ہو گئے۔قطری نشریاتی ادارہ الجزیرہ کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں 71 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔
فلسطینی خبر رساں ادارہ وفا کے مطابق اسرائیلی حملوں کا زیادہ تر نشانہ خاندانوں کے گھر تھے، جن گھروں پر حملہ کیا گیا ان میں سہیلہ میں ابو دیب خاندان کے گھر کے 7 افراد شہید ہوئے۔صہیونی فورسس کے حملوں میں اباسان الکبیرہ میں ابو دقہ خاندان کے 8 افراد شہید ہوئے۔ الفخری میں الامور خاندان کے گھر 3 افراد شہید ہوئے۔ رفح کے قریب موسبہ میں جابر خاندان کے گھر کے 10 افراد شہید ہوئے۔
بیت اللحیا کے قریب ایک گھر کے 7 افراد شہید ہوئے۔غزہ پٹی کے جنوبی حصہ میں آج صبح سے فضائی حملوں میں حیرت انگیز اضافہ ہوا جہاں اسرائیلی فضائیہ نے خان یونس اور رفح شہروں میں مکینوں سے بھری کم از کم 10 رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔شمال میں ایک اور رہائشی عمارت مکمل طور پر تباہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ شہداء میں بچوں اور خواتین کے ساتھ ایک نوزائیدہ بچہ بھی شامل ہے۔
اسرائیل ایک واضح اسٹراٹیجک حکمت عملی استعمال کررہا ہے جس میں ان عمارتوں پر حملہ کرنے سے پہلے شہریوں کو کسی قسم کی وارننگ نہیں دی جاتی جن میں وہ پناہ لے رہے ہیں۔غزہ کی وزارت ِصحت کی جانب سے منگل کے روز بتایا گیا تھا کہ حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد سے 183 بچوں سمیت 436 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بن جامن نتن یاہو نے غزہ پٹی میں حماس کے خلاف شدید جنگ کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارہ میں ایک بڑے اور مضبوط محاذ کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں کم از کم 49 ہزار 547 فلسطینیوں کی شہادت اور ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے شہادتوں کی تعداد 61 ہزار 700 سے زائد بتائی ہے اور کہا ہے کہ ملبہ تلے دبے ہزاروں فلسطینیوں کو مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔7 اکتوبر 2023 کو حماس کی زیر قیادت حملوں کے دوران اسرائیل میں کم از کم ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے اور 200 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ میں فلسطین کے مشن نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیل کے تازہ حملہ کو روکنے کے لیے فوری طور پر کارروائی کرے جس میں اب تک کم از کم 500 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 183 بچے بھی شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بے سہارا شہری آبادی کے خلاف طاقت کے بے رحمانہ اور غیر قانونی استعمال کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے جنگی جرائم‘ انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکامی سلامتی کونسل کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچائے گی۔اسرائیلی وزیراعظم بن جامن نتن یاہو اور ان کی حکومت کے خلاف ہزاروں مظاہرین نے یروشلم کی طرف مارچ کیا جس میں اہم سیکوریٹی اور عدالتی عہدیداروں کو ہٹانے کی کوششوں اور عدلیہ پر سیاسی طاقت بڑھانے کے لیے انتہائی متنازعہ قانون سازی کی تجدید اور غزہ میں جنگ بندی کے خاتمہ کے بعد احتجاج کیا گیا۔
ٹائمس آف اسرائیل کے مطابق چہارشنبہ کی ریالی کے دوران اور رات بھر جاری رہنے والے مظاہروں کے دوران کم از کم 12 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ مظاہرین کے ساتھ پولیس کی جھڑپیں ہوئیں اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آبی توپوں کا استعمال کیا گیا۔یہ بڑے مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حکومت شین بیٹ کے سربراہ رونن بار اور اٹارنی جنرل گلی بہارو میارا کو ہٹانے کی کوشش کی جو حالیہ مہینوں میں نتن یاہو اور ان کے دائیں بازو کے اتحاد کی ناراضگی کا شکار رہے ہیں۔