مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، پانچ ماہ کے انتظار کے بعد حزب اللہ لبنان کے سابق سیکریٹری جنرل شہید سید حسن نصراللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین کو بیروت میں عزاداروں کے جم غفیر کے درمیان سپرد خاک کیا گیا۔ 23 فروری کو بیروت کے اسٹیڈیم میں ان کا شاندار جنازہ نکالا گیا۔ سید حسن نصراللہ کو جنوبی بیروت کے ضاحیہ میں دفن کیا گیا، جبکہ سید ہاشم صفی الدین کے جسد خاکی کو ان کے آبائی علاقے دیر قانون لے جایا گیا، جہاں 24 فروری کو سپرد خاک کیا گیا۔ اس عظیم الشان تشییع جنازہ نے دنیا بھر کے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔
شہید سید حسن نصراللہ جو 1991 میں سید عباس موسوی کی شہادت کے بعد حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل بنے اور اپنی شہادت تک اس منصب پر فائز رہے۔ انہیں جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے میں شہید کیا گیا۔ اس کے بعد حزب اللہ نے سید ہاشم صفی الدین بھی چند روز بعد اسی طرح کے حملے میں شہید ہوگئے۔
یہ عظیم الشان واقعہ عالمی میڈیا کی سرخیوں میں رہا اور انگریزی بولنے والے سوشل میڈیا صارفین، خاص طور پر ایکس پر اس پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ایکس کے انگریزی بولنے والے صارفین نے سید الشہداء مقاومت کی شاندار تشییع جنازہ کے بعد سید حسن نصراللہ کو “عرب اور لبنان کے ذہین ترین اور سب سے زیادہ دیانت دار رہنما” قرار دیتے ہوئے انہیں ایک نظریہ، ایک مقصد اور ایک راہ سے تعبیر کیا۔
امریکی خاتون صحافی اور ایکٹیوسٹ “فیورلا ایزابل”، جو خود بھی اس جنازے میں شریک تھیں، نے ایکس پر اپنی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: اس جنازے میں ایک ملین سے زائد افراد شریک ہوئے۔ پورا بیروت اس تاریخی جنازے اور سوگ کے لیے بند رہا۔ صیہونی حکومت مقاومت کے جذبے کو توڑنے میں ناکام رہی۔
ایک اور صارف نے جنازے کے ہجوم کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ سید مقاومت کے جنازے میں شریک افراد کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کرگئی۔
تشییع میں شریک امریکی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار “جیکسن ہینکل” نے اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: سید حسن نصراللہ کے جنازے میں شرکت بڑا اعزاز تھا۔ اسرائیل پر ہمیشہ کے لیے لعنت!
انہوں نے اس موقع پر کئی دیگر پوسٹس بھی شیئر کیں۔ ایک پوسٹ میں، انہوں نے تین تصاویر شامل کیں، جن میں حاج قاسم سلیمانی، سید ابراہیم رئیسی، اور سید حسن نصراللہ کے جنازوں میں عوام کی بڑی تعداد کو دکھایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے لکھا: “دنیا مقاومت کی حمایت کرتی ہے!
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر صارفین کی خصوصی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
جیکسن نے فلسطین حمایت میں شہید حسن نصراللہ کے بیانات کو شئیر کرتے ہوئے لکھا ہے: وہ (شہید نصراللہ) اس بات پر تاکید کرتے تھے کہ ہم فلسطین اور وہاں کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اگرچہ ہمیں دہشت گرد نام دیں؛ جنایت کار کہیں اور جو چاہے لقب دیں، ہم ہر میدان میں جنگ کریں گے۔ ہم فلسطین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
ایکس کے متعدد صارفین نے شہید نصراللہ کو “فاتح” اور “بہادر” لقب دیا۔ بعض نے ان کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “دنیا فلسطین کے ساتھ ہے” “انسانیت فلسطین کے ہمراہ ہے” “فلسطین کو آزاد کریں” اور “زندہ باد فلسطین”
فلسفہ اور الہیات کے فرانسیسی استاد نے بھی ان الفاظ کے ساتھ شہید نصراللہ کی شخصیت پر روشنی ڈالی انہوں نے تشییع کے جلوس کے بارے میں لکھا: “وہ عرب دنیا اور لبنان کے ذہین ترین اور دیانت دار ترین لیڈر تھے۔ انہوں نے اپنے وطن اور فلسطین کا دفاع کیا۔
ایک صارف نے اس موضوع کو ایک فنکارانہ تصویر کے ذریعے بیان کیا، جس میں دکھایا گیا کہ تمام عرب حکمران امریکی حکم پر صیہونی حکومت کے آگے سر جھکائے کھڑے ہیں، جبکہ سید حسن نصراللہ اس فرمان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے اس انکار نے عرب حکمرانوں اور صیہونی حکومت دونوں کو غصے میں مبتلا کر دیا۔
ایک اور صارف، جو خود کو مصنف اور انصاف کا متلاشی قرار دیتا ہے، نے زور دے کر کہا: “نصراللہ محض ایک فرد نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک مقصد اور ایک راستہ ہے!