ہندوتوا خاتون لیڈر گنگاجل کے ساتھ تاج محل میں داخل، تاریخی عمارت کے اندر پوجا کی (ویڈیو)

نئی دہلی: چہارشنبہ کے روز سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک خاتون ہندوتوا لیڈر گنگاجل اور شیولنگ کے ساتھ تاج محل میں داخل ہوگئی تاکہ آگرہ کی اس تاریخی یادگار عمارت کے اندر پوجا کرسکے۔

مہاشیوراتری کے موقع پر آل انڈیا ہندومہاسبھا کی شعبہ خواتین کی ضلع صدر میراراٹھور نے تاج محل کے اندر بھگوان شیو کی خصوصی پوجا انجام دی۔ وائرل ویڈیوز میں اسے پریاگ راج کے سنگم سے حاصل کئے گئے گنگاجل کو شیولنگ پر چڑھاتے ہوئے اور عمارت کے اندر پوجا کی رسومات انجام دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

اس حرکت نے یونیسکو کے عالمی ورثہ کے مقام پر سیکوریٹی اقدامات پر دوبارہ بحث چھیڑ دی ہے۔ ہندوتوا لیڈر کو تاج محل کے اندر ہاتھ جوڑ کر جئے شری رام اور ہرہرمہادیو کا جاپ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ راٹھور نے بتایا کہ وہ اس تاریخی عمارت کو پاک کرنا چاہتی ہے جو چادر اور بریانی کی وجہ سے گندی ہوگئی ہے۔

اسی دوران وائرل ویڈیو میں ایک بیان میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ یہ خاتون ایک شیولنگ کے ساتھ آگرہ میں اس عمارت تک پہنچ گئی۔ اے سی پی تاج سیکوریٹی نے کہا کہ یہ خاتون تاج محل میں داخل نہیں ہوئی اور پوجا کا ویڈیو نقلی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی آئی ایس ایف نے اس معاملہ میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی ہے۔

شکایت موصول ہونے پر کارروائی کی جائے گی۔ اسی دوران ہندو مہاسبھا کے ارکان نے عہد کیا کہ وہ پریاگ راج میں مہاکمبھ کا دورہ کرنے کے بعد تاج محل میں شیولنگ نصب کریں گے۔ اپنے وعدہ کے مطابق وہ لوگ گنگا سے مقدس پانی اپنے ساتھ لائے اور تاج محل (تیجومہالیا) کو پاک کیا اور اس تاریخی عمارت کے اندر جل ابھیشک کیا۔

میراراٹھور اس سے پہلے بھی ایسی حرکتیں کرچکی ہے تاکہ اخبار کی سرخیوں میں آئے۔ اس سے پہلے وہ تاج محل کے اندر زعفرانی پرچم لہراتے ہوئے پکڑی گئی تھی۔ جس کے نتیجہ میں ایک بڑا تنازعہ پیدا ہوگیا تھا اور قانونی کارروائی کی گئی تھی۔





[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *