مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: معروف یمنی مصنف اور سیاسی ماہر “عدنان عبداللہ الجنید” نے “بیروت میں لاکھوں انسانوں کا شہدائے مقاومت سے تجدید عہد” کے عنوان سے ایک خصوصی نوٹ مہر نیوز کے بین الاقوامی گروپ کو ارسال کیا ہے جس کا متن درج ذیل ہے۔
23 فروری 2025 کو ایک تاریخی دن سمجھا جاتا ہے جس کا مشاہدہ نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے اور دنیا نے کیا۔ یہ دن کروڑوں انسانوں کے شہدائے مقاومت سے عالمی اظہار وفاداری کا دن تھا۔
اس تقریب میں جو اجتماع ہم نے دیکھا جس کی بڑے بڑے عرب اور اسلامی ممالک میں نظیر نہیں ملتی۔
لبنان اور دیگر ممالک سے آنے والے لاکھوں افراد نے شہید سید حسن نصر اللہ کو الوداع کرتے ہوئے دنیا کی استکباری طاقتوں کے تسلط کا مقابلہ کرنے کے لیے مزاحمت کے قانونی جواز اور تسلسل پر زور دیا۔
اس بڑے اجتماع نے یہ پیغام دیا کہ مزاحمت ہی امت اسلامیہ کی نجات کا ذریعہ اور فتح حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ جنازے کی تقریب میں شریک لاکھوں افراد کا اجتماع صیہونیوں اور دنیا کی تمام استکباری قوتوں کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا اور یہ جنگی ٹیکنالوجی پر خون کی فتح کا واضح اعلان تھا۔
قابض رژیم جلد یا بدیر صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔ کیونکہ مزاحمتی قائدین کی شہادت اسرائیل کی نابودی کی رفتار کو بڑھا دیتی ہے اور دنیا کے استکباری ممالک کے استعماری منصوبوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے۔
پوری دنیا دیکھے کہ ہم اپنے وعدے پر قائم ہیں۔ مغربی ایشیا میں لاکھوں کے اس بے مثال انسانی طوفان کے بعد صیہونی حکومت پریشان ہے کہ اس نے سید حسن نصر اللہ کو قتل نہ کیا ہوتا۔ اس قتل ناحق نے صیہونی حکومت کی نابودی کو عملی طور پر قریب کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں ہم امت مسلمہ کے ایک بڑے اور ہمہ گیر آتش فشاں کا مشاہدہ کریں گے۔
ہم مسجد اقصیٰ اور مظلوم اقوام کی آزادی کے لئے قربانیاں دیتے ہیں اور پوری دنیا کو بتا دینا چاہیے کہ ہم اپنے وعدے پر قائم ہیں۔