مہاراشٹر: جہیز نہ لانے پر خاتون کے سر کے بال زبردستی منڈھوانے اور تشدد کا الزام، شوہر سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ

ممبئی: مہاراشٹر کے کلیان علاقے میں ایک خاتون نے اپنے شوہر اور سسرالی افراد پر جہیز کے مطالبات پورے نہ ہونے پر مسلسل ذہنی و جسمانی اذیت دینے اور زبردستی سر کے بال منڈھوانے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

 

متاثرہ خاتون الہاس نگر کے سینٹرل ہاسپٹل میں زیر علاج ہے جہاں اس نے دوران حمل مارپیٹ، مناسب خوراک سے محروم رکھنے اور گرم پانی سے جلانے جیسے الزامات بھی عائد کئے ہیں۔ پولیس نے شوہر کے خاندان کے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

 

پولیس کے مطابق الہاس نگر کی افسانہ کی شادی نومبر 2025 میں کلیان کے والدھونی علاقے کے سمیر انصاری سے ہوئی تھی۔ خاتون کے ارکان خاندان کا کہنا ہے کہ شادی سے قبل ہی انہوں نے لڑکے والوں کو اپنی مالی مشکلات اور جہیز دینے سے معذوری سے آگاہ کر دیا تھا تاہم شادی کے کچھ ہی عرصے بعد افسانہ پر رقم اور دیگر سامان لانے کے لیے دباؤ ڈالا جانے لگا۔

 

افسانہ نے الزام لگایا کہ حمل کے دوران بھی اس کے ساتھ ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کا کہنا ہے کہ شوہر، ساس، سسر اور نند اکثر اس پر تشدد کرتے تھے اور اسے مناسب کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا۔ اس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس کے ہاتھوں پر گرم پانی ڈالا گیا جس سے وہ جھلس گئی جبکہ روزمرہ ضروریات کے لیے بھی اسے پیسے فراہم نہیں کئے جاتے تھے۔

 

متاثرہ خاتون کے مطابق 7 جون کو سسرالی افراد نے یہ کہہ کر کہ اس کے سر میں جوئیں ہیں اور اس سے بچے کو سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے زبردستی اس کے سر کے بال منڈوا دیے۔ اس نے الزام لگایا کہ اس عمل میں اس کا شوہر، ساس، نند اور خالہ ساس شامل تھیں۔

 

بعد ازاں اسے تقریباً ایک ہفتے تک ایک کمرے میں بند رکھا گیا اور مزید ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔متاثرہ کے بھائی نے مہاراشٹر حکومت اور وزیراعلیٰ سے مداخلت کرتے ہوئے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی افراد میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

 

مہاتما پھلے پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر بالی رام پردیشی نے بتایا کہ خاتون کے ہاسپٹل میں داخل ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس ٹیم نے وہاں پہنچ کر اس کا بیان قلمبند کیا۔

 

ان کے مطابق شکایت کی بنیاد پر شوہر، ساس، سسر، نند اور خالہ ساس کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *