جنس تبدیل کرواکر نوجوان بن گیا زنخہ پھر لوگوں کو روحانی علاج کے نام پر دیا کروڑوں کا دھوکہ

حیدرآباد: آندھرا پردیش کے ضلع انّامیا میں ایک ٹرانس جینڈر یعنی زنخہ پر مختلف طریقوں سے لوگوں کو دھوکہ دے کر لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے بٹورنے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے حکام سے معاملے کی تحقیقات اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق مدن پلی کے شیواجی نگر علاقے سے تعلق رکھنے والا موہن کرشنا چند برس قبل گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا اور بعد ازاں جنس کی تبدیلی کے بعد ’’مدھو شری‘‘ کے نام سے واپس لوٹا۔ الزام ہے کہ واپسی کے بعد اس نے

 

مختلف بہانوں سے لوگوں کو دھوکہ دے کر رقم حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔متاثرین کا کہنا ہے کہ مدھو شری خوبصورت انداز میں تیار ہو کر بعض مردوں کو اپنے جال میں پھنساتی تھی جبکہ بعض افراد کو پوجا پاٹ خفیہ خزانے دلانے

 

اور روحانی مسائل کے حل کے نام پر دھوکہ دیتی تھی۔الزامات کے مطابق وہ لوگوں کو یہ کہہ کر بھی رقم وصول کرتی تھی کہ ان کے گھروں میں آسیب یا بری روحوں کا سایہ ہے اور وہ اسے دور کر سکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع ہی نہیں

 

بلکہ ریاست کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ اس کے پاس آتے رہے اور دھوکہ دہی کا شکار بنتے رہے۔یہ بھی الزام ہے کہ مدھو شری نے ایک گروہ تشکیل دے رکھا تھا جو شادیوں میں پہنچ کر دلہا دلہن کی ’’نظر اتارنے‘‘ کے نام پر رقم کا مطالبہ

 

کرتا تھا۔ اگر رقم نہ دی جائے تو بدزبانی، بددعاؤں اور ہنگامہ آرائی کے ذریعے شادی کی تقریب کا ماحول خراب کیا جاتا تھا۔متاثرین کے مطابق کوئی شخص مخالفت کرتا تو اسے یہ کہہ کر دھمکایا جاتا کہ اس کے تعلقات پولیس اور سیاسی

 

شخصیات سے ہیں۔چند متاثرہ خاندانوں کے میڈیا کے سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ منظرِ عام پر آیا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 13 خاندان مدھو شری کے ہاتھوں دھوکہ دہی کا شکار ہوئے اور ان سے لاکھوں روپے بٹورے گئے۔

 

خاتون کا کہنا تھا کہ کئی متاثرین خوف کی وجہ سے کھل کر سامنے نہیں آ رہے ہیں۔متاثرہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور قصوروار ثابت ہونے پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *