ذرائع کے مطابق، پولیس نے گزشتہ دنوں دہلی میں واقع ضیاء الرحمان برق کی رہائش گاہ پر جا کر انہیں نوٹس دیا تھا۔ اس نوٹس میں انہیں تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔ خیال رہے کہ سنبھل میں پیش آئے پرتشدد واقعے میں ضیاء الرحمان برق کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے اور ان کا نام کیس ڈائری میں شامل کیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے تیار کی گئی کیس ڈائری میں 24 نومبر کی ہنگامہ آرائی کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا گیا ہے جس میں جمعہ مسجد کے صدر اور بعض دیگر افراد کے ساتھ رکن پارلیمان ضیاء الرحمان برق کا بھی ذکر ہے۔ ایس آئی ٹی کی ٹیم اس معاملے میں برق کے کردار کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے اور ان سے مختلف پہلوؤں پر سوالات کیے جائیں گے، جن میں واقعے سے قبل اور بعد میں ہونے والی ممکنہ گفتگو بھی شامل ہے۔
