بیان میں مزید کہا گیا کہ مدارس نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد سے لے کر موجودہ دور تک معاشرے کی تعمیر و ترقی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اس کے باوجود، کچھ حلقے سیاسی مفادات کے تحت اقلیتوں کو ان کے مذہبی تشخص سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایک تشویش ناک رجحان ہے۔ بورڈ کے مطابق مدارس کو کمزور کرنے کی یہ کوشش ایک منظم حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔
بورڈ نے اتراکھنڈ حکومت کے مجوزہ قانون پر خاص اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت تمام مدارس کے لیے سرکاری تعلیمی بورڈ میں رجسٹریشن لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت کے ماتحت تعلیمی بورڈ کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ نصاب اور مذہبی مواد کا تعین کرے، جس سے مدارس کی خودمختاری متاثر ہوگی۔
