مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ مہینے ایران کے مختلف علاقوں پر متعدد میزائل گرائے تاہم ان میں سے بڑی تعداد کو ایرانی دفاعی نظام نے ناکارہ بنادیا اور پھٹے بغیر زمین پر گرگئے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران میں امریکی اور اسرائیلی عسکری سازوسامان کے ناکارہ یا نہ پھٹنے والے حصوں کے ذریعے ریورس انجینئرنگ کی کوششوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔
متعدد مغربی اخبارات اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیوں سے حساس ٹیکنالوجی کے مطالعے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کی کشیدگی اب صرف براہ راست فوجی تصادم تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ٹیکنالوجی، ہتھیاروں کے حصول اور علاقائی طاقت کے توازن تک پھیل چکی ہے۔
برطانوی ویب سائٹ “آئی پیپر” نے سابق امریکی خفیہ اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ ایران وہ ہتھیار پرکھ رہا ہے جو یا تو پھٹے نہیں یا اس کی سرزمین پر آکر گرے۔ ان میں ٹاماہاک میزائل، MQ‑9 ریپر ڈرون، JASSM میزائل اور GBU‑57 قسم کے بینکر شکن بم شامل ہیں۔
مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس عمل میں روس یا چین کی ممکنہ تکنیکی مدد بھی اہم ہے، کیونکہ اس سے امریکی ہتھیاروں کی رہنمائی، جامنگ اور اسٹیلتھ خصوصیات کو سمجھنے کا موقع مل سکتا ہے۔
اسی سلسلے میں گارڈین کے دفاعی ایڈیٹر ڈین صباغ نے لکھا کہ حالیہ حملوں سے ایران کی فوجی صلاحیت میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑا اور اس کے بہت سے ڈرون اور میزائل نظام اب بھی کام کر رہے ہیں۔
گارڈین میں ہی فواز جرجس نے اپنے جائزے میں کہا کہ ماضی میں ایران پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی کامیاب نہیں ہوئی، اور اس دور کی کشیدگی نے ایران کو خطے میں نئے اثرورسوخ کے مواقع دیے ہیں۔
جرجس نے کہا کہ اس ٹکراؤ کے بعد ایران زیادہ پراعتماد ہو کر ابھرا اور اس نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں توانائی لے جانے والے جہازوں کی راہ کو خطرے میں ڈالنے کی اپنی صلاحیت استعمال کی، جس سے اسے اپنے ایٹمی پروگرام سے بڑھ کر ایک اضافی طاقت اور دباؤ کا ذریعہ مل گیا۔
