نیتن یاہو کے خلاف ہزاروں اسرائیلی سڑکوں پر اترے، وزیر اعظم کے فیصلوں پر شدید ناراضگی کا کیا اظہار

نیتن یاہو کے ناقدین کا الزام ہے کہ اپنے فیصلوں کے ذریعہ نیتن یاہو اقتدار میں رہنے کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ وہ مسلسل اسرائیلی جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ہزاروں کی تعداد میں مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی / ویڈیو گریب</p></div><div class="paragraphs"><p>ہزاروں کی تعداد میں مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی / ویڈیو گریب</p></div>

ہزاروں کی تعداد میں مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی / ویڈیو گریب

user

نام نہاد جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ رمضان مبارک کے مہینے میں بھی نیتن یاہو مظلومین پر ظالمانہ کارروائی سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن اس خطرناک منصوبے کے درمیان ان کی گھریلو سطح پر پکڑ کمزور بھی ہوتی جا رہی ہے۔ بنجامن نیتن یاہو کے فیصلوں کے خلاف ہفتہ کو اس وقت انوکھا نظارہ دیکھنے کو ملا جب راجدھانی تل ابیب کی سڑکوں پر ہزاروں لوگ نکل پڑے اور حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے لگے۔

دراصل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حال ہی میں گھریلو خفیہ محکمہ شن بیٹ کے سربراہ رونین بار کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے اس فیصلے کو کئی لوگ سیاست سے متاثر مان رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف مظاہرہ کر رہے لوگ غزہ میں پھر سے شروع کی گئی جنگ کو لے کر ناراض ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک بہتر جنگ بندی نافذ ہونی چاہیے، جس سے سبھی یرغمالیوں کو چھڑایا جا سکے۔ ان دو فیصلوں کی وجہ سے تل ابیب میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔

نیتن یاہو نے اس ہفتے کی شروعات میں میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2021 سے شن بیٹ کی قیادت کر رہے رونین بار پر اب انہیں اعتماد نہیں رہا۔ اسی وجہ سے 10 اپریل کو ان کو برخاست کر دیا جائے گا۔ نیتن یاہو کے اس فیصلے کے بعد سے ہی لوگ مظاہرہ کرنے کے لیے سڑکوں پر آ گئے۔ یاہو کے بیان کے بعد اسرائیلی سپریم کورٹ بھی حرکت میں آ گیا اور اس نے برخاستگی پر عارضی طور سے روک لگا دی۔

نیتن یاہو کے ناقدین کا الزام ہے کہ ان فیصلوں کے ذریعہ یاہو اقتدار میں رہنے کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ وہ مسلسل اسرائیلی جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں۔ حالانکہ نیتن یاہو نے ان سبھی الزامات کو یکسر خارج کر دیا ہے۔

رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو بھلے ہی ان الزامات کو خارج کر دیں لیکن مظاہرین کا ان کو لے کر غصہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ تل ابیب کے حبیما اسکوائر میں مظاہرین نے نیلے اور سفید رنگ کے اسرائیلی پرچم کو لے کر غزہ میں ایک معاہدہ کا مطالبہ کیا، جس سے باقی اسرائیلی یرغمالیوں کو پُر امن طریقے سے رہا کیا جاسکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *