حیدرآباد (آئی اے این ایس) ریاست کے ضلع ناگر کرنول میں جزوی طور پر منہدم سری سلیم لیفٹ بینک کنال کی سرنگ میں پھنسے8 افراد کو بچانے کیلئے چہارشنبہ کو پانچویں روز جاری ریکسیو آپریشن میں کچھ پیش رفت سامنے آئی کیونکہ بچاؤ کارکن، 14کیلو میٹر طویل اس سرنگ کے آخری حصہ تک پہونچنے میں کامیاب رہے۔
مختلف ایجنسیوں کے بچاؤ کارکنوں کی ایک ٹیم، بالاآخر40 میٹر کی راہداری جو مٹی اور کیچڑ سے بھری پڑی تھی۔ کو عبور کرتے ہوئے سرنگ کے آخری کنارے تک رسائی حاصل کرنے اور واپس ہونے میں کامیاب رہی مگر اب تک پھنسے 8 افراد کی قسمت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
عہدیداروں نے کہا کہ ٹیم نے مٹی اور کیچڑ سے بھرے حصہ کو دیکھا ہے اور اب ہم قطعی مرحلہ کے آپریشن کے بارے میں حکمت عملی طئے کریں گے۔ پہلے ٹنل بورنگ مشین(ٹی بی ایم) کے اگلے حصہ تک پہونچنے کیلئے بی ایس ایف کی ٹنل ماہرین پر مشتمل ٹیم کو استعمال کیا جائے گا۔
قبل ازیں ضلع ناگرکرنول میں سری سیلم لیفٹ بینک کنال کی سرنگ میں پھنسے8 افراد کی تلاش کیلئے چہارشنبہ کو چوتھے دن بھی ریسکیو آپریشن جاری رہا تاہم سرنگ کے آخری حصہ میں 40 میٹر تک مٹی اور ملبہ کے بھرے رہنے سے بچاؤ ٹیموں کو آپریشن انجام دینے میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔
این ڈی آر ایف، آرمی، نیوی اور دیگر ایجنسیاں آگے بڑھنے سے قاصر تھیں کیونکہ ان کے سامنے7 سے9 میٹر بلند مٹی کا ڈھیر ہے جبکہ پانی کے مسلسل اخراج سے بچاؤ ٹیموں کے آپریشن کو مزید پرخطر بنادیا ہے۔ ریسکیو ورکرس نے بتایا کہ جب تک مٹی اور ملبہ کو صاف نہیں کیا جاتا، ہم، ٹنل میں بورنگ مشین کے آگے تک پہونچنے سے قاصر ہیں جہاں 8افراد کے پھنسے رہنے کا خدشہ ہے۔
22فروری کو ٹنل کی چھت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا تھا۔ ملک کے سب سے مشکل ترین ریسکیو آپریشن کیلئے ہندوستان بھر کی مختلف ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی گئی اور انتہائی عصری آلات بھی استعمال کئے جارہے ہیں مگر اس کے باوجوداُس مقام تک رسائی حاصل کرنے میں ایجنسیاں ناکام رہی ہیں جہاں یہ 8 افراد پھنسے بتائے گئے ہیں۔
چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور ریاستی وزیر آر اینڈ بی کو مٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے چہارشنبہ کے روز ریسکیو آپریشن میں مصروف مختلف ایجنسیوں کے عہدیداروں سے جاری بچاؤ آپریشن کے بارے میں جائزہ لیا۔ پی ٹی آئی کے مطابق ایک اہم پیش رفت میں ٹیم کے ماہرین جو سرنگ میں پھنسے 8 افراد کو 5دنوں سے بچانے کی مساعی انجام دے رہے ہیں، ٹنل کے آخر حصہ تک پہونچنے اورواپس آنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ٹیمیں آخر کار، سرنگ کے 50میٹر کے آخر حصہ تک پہونچنے میں کامیاب رہے۔ اس سے قبل 50میٹر کا یہ راستہ مٹی، کیچڑ سے بھرا پڑا تھا جس کے سبب بچاؤ کارکنوں کو آگے بڑھنے میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور راٹ مائزس پر مشتمل 20رکنی ٹیم، ٹنل کے آخری حصہ تک پہونچ گئی مگر بھاری ملبہ پڑا ہوا ہے۔
ناگر کرنول کے ایس پی وٹیبھو گائیکواڈ نے یہ بات بتائی۔ قبل ازیں ضلع کلکٹر بی سنتوش نے بتایا کہ پھنسے افراد کے مقام تک پہونچنے کیلئے بچاؤ آپریشن کے حصہ کے طور پر اسنفر ڈاگس کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔