**خبر:**
ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں میڈیکل طلبہ نے منگل کو ’انصاف کے لیے مارچ‘ کے تحت ملک گیر احتجاج شروع کر دیا۔ یہ احتجاج میڈیکل اسسٹنٹس کی جانب سے غیر قانونی طور پر ’ڈاکٹر‘ کا لقب استعمال کرنے کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ یہ لقب صرف ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس ڈگری ہولڈرز کے لیے مخصوص کیا جائے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بنگلہ دیش کی ایک عدالت پیر کے روز 2013 میں میڈیکل اسسٹنٹس کو ’ڈاکٹر‘ کا لقب دینے کی قانونی درخواست پر فیصلہ سنانے والی ہے۔ تاہم، احتجاجی طلبہ نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ لقب کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
ملک کے معروف اخبار ’دی ڈیلی سٹار‘ کے مطابق، جب طلبہ اپنی مانگ کے حق میں عدالت کی طرف مارچ کر رہے تھے تو پولیس نے ہائی کورٹ کے گیٹ پر انہیں روک دیا۔
میڈیکل طلبہ نے پیر سے ہی مکمل تعلیمی بائیکاٹ کا اعلان کیا اور اپنی پانچ نکاتی مانگوں پر زور دیا۔ مظاہرین نے کہا کہ میڈیکل اور ڈینٹل کونسل کی رجسٹریشن صرف ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس ڈگری رکھنے والوں تک محدود ہونی چاہیے، جبکہ میڈیکل اسسٹنٹس (ایم اے ٹی ایس گریجویٹس) کے لیے رجسٹریشن ختم کیا جائے۔
احتجاج میں شامل انٹرن ڈاکٹروں اور طلبہ نے مزید مطالبہ کیا کہ تمام میڈیکل اسسٹنٹ ٹریننگ سکولز (ایم اے ٹی ایس) اور کم معیار کے نجی و سرکاری میڈیکل کالجز کو بند کیا جائے۔ وہ میڈیکل اسسٹنٹس کے لیے ’سب اسسٹنٹ کمیونٹی میڈیکل آفیسر‘ کے لقب کو ختم کر کے انہیں صرف ’میڈیکل اسسٹنٹ‘ کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
اس سے قبل، خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے خلاف بھی طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ اتوار کو ڈھاکہ کے مختلف تعلیمی اداروں بشمول جگن ناتھ یونیورسٹی، ایڈن کالج، گورنمنٹ ٹیٹومیر کالج، یونیورسٹی آف لبرل آرٹس بنگلہ دیش (یو ایل اے بی) اور بی آر اے سی یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں طلبہ نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور جنسی جرائم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے حکومت کی خاموشی توڑنے اور زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا، جبکہ ملک میں بڑھتے جرائم اور حکومتی ناکامی پر وزیر داخلہ کے مشیر سے استعفے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔