جہیز کیلئے سسرال والوں نے بہو کو ایچ آئی وی سے متاثرہ انجیکشن دے دیا

نئی دہلی ۔ اترپردیش سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون کے سسرالی رشتے داروں نے مبینہ طور پر اسے ایچ آئی وی (HIV) سے متاثرہ انجیکشن دے دیا کیونکہ اس کے والدین مزید جہیز دینے سے قاصر تھے۔

 

متاثرہ خاتون کے والد کے مطابق 15 فروری 2023 کو ان کی بیٹی کی شادی ہریدوار ریاست اترکھنڈ  کے ابھیشیک عرف سچن سے ہوئی۔ شادی کے وقت 15 لاکھ روپے دیے گئے تھے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد سسرال والوں نے مزید 25 لاکھ روپے طلب کیے تاکہ ایک اسکارپیو کار خریدی جا سکے۔ جب لڑکی کے والدین نے اتنی بڑی رقم دینے سے انکار کیا تو سسرال والوں نے اسے گھر سے نکال دیا۔

 

گاؤں کے بزرگوں نے مداخلت کرکے معاملہ حل کروایا اور متاثرہ خاتون کو واپس سسرال بھیج دیالیکن وہاں اس پر جسمانی اور ذہنی تشدد جاری رہا۔ سسرالی رشتے داروں نے اپنے بیٹے کی دوسری شادی کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے لیے متاثرہ کو قتل کی سازش رچی گئی۔

 

 

سسرال والوں نے متاثرہ خاتون کو جان سے مارنے کے ارادہ سے اسے ایچ آئی وی وائرس سے متاثر انجیکشن دے دیا۔ کچھ دنوں بعد خاتون کی صحت خراب ہونے لگی جس پر اسے ہاسپٹل لے جایا گیا۔ طبی معائنے میں انکشاف ہوا کہ وہ ایچ آئی وی پازیٹیو ہو چکی ہے جب اس کے شوہر ابھیشیک کا ٹیسٹ کیا گیا تو اس کا ایچ آئی وی ٹیسٹ نیگیٹو آیا جس سے واضح ہوا کہ متاثرہ کو زبردستی ایچ آئی وی کا شکار بنایا گیا۔

 

جب متاثرہ خاتون کے والدین نے پولیس سے شکایت کی تو کوئی سخت کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کے بعد متاثرہ نے مقامی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدالت کے حکم پر گنگا کوتوالی پولیس نے ابھیشیک، اس کے والدین اور دیگر سسرالی رشتہ داروں کے خلاف جہیز کے لیے ہراسانی حملہ اور قتل کی کوشش جیسے کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *