
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ نہ ختم ہونے والی جنگوں نے کئی دہائیوں تک امریکہ کو کمزور کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والا معاہدہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، اور یہ معاہدہ امریکہ فرسٹ پالیسی کے عملی نفاذ کی عکاسی کرتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ یہ معاہدہ مفاہمت، مالی ادائیگیوں اور نہ ختم ہونے والی جنگوں پر مبنی ناکام پالیسیوں کا خاتمہ کرتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے اندر ہونے والے مختلف سروے یہ اشارہ دیتے ہیں کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والا معاہدہ زیادہ تر ایران کے مطالبات سے ہم آہنگ سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جریدے اکسیوس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کو صرف سخت گیر حلقوں کو مطمئن کرنے کے لیے طول دینا عالمی کساد بازاری کا سبب بن سکتا تھا۔
