حالیہ جنگ نے ایران کو عالمی طاقت بنا دیا، آیت اللہ عاملی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے شہر اردبیل کے امام جمعہ آیت اللہ سید حسن عاملی نے نماز جمعہ کے خطبے میں کہا کہ حالیہ جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والا معاہدہ ایران کے لیے اہم اسٹریٹجک کامیابیوں کا باعث بنا، جبکہ دشمن اپنے 47 سالہ منصوبوں کے باوجود اپنے کسی بھی بنیادی ہدف میں کامیاب نہ ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ دشمن ایران میں نظام کی تبدیلی، میزائل صلاحیت کو تباہ کرنے، ملک کو تقسیم کرنے، عرب نیٹو قائم کرنے، زمینی حملہ کرنے، آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے، اقتصادی اور میڈیا منصوبوں کو کامیاب بنانے اور بیرون ملک اپوزیشن کو مضبوط کرنے جیسے تمام منصوبوں میں ناکام رہا۔ ان کے بقول ان واقعات کے بعد خطے کا توازن ایران کے حق میں تبدیل ہوا، ایران کو ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر تسلیم کیا گیا اور تہران کے ساتھ تعاون میں عالمی دلچسپی بھی بڑھی۔

آیت اللہ عاملی نے امریکہ کی مسلسل عہد شکنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ اعتماد کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ معاہدہ ایران کی استقامت اور فعال مزاحمت کا نتیجہ ہے، کیونکہ مزاحمت کی قیمت ہمیشہ سمجھوتے سے کم ہوتی ہے۔

انہوں نے رہبر انقلاب کے حالیہ بیان کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں دشمن شناسی، شجاعت، حکومت کی رائے کے احترام اور اجتماعی دانش سے استفادے جیسے بنیادی نکات شامل ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو مذاکرات کی اجازت خوش فہمی کی بنیاد پر نہیں بلکہ حکمت عملی کے تحت دی گئی تاکہ قومی اتحاد برقرار رہے اور دشمن عالمی اور داخلی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب ہو۔

اردبیل کے امام جمعہ نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا کرتا ہے یا معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایران اور اس کے عوام بھرپور ردعمل دیں گے، جس میں آبنائے ہرمز کی بندش، یورینیم افزودگی کی بحالی اور عوام کی دوبارہ بھرپور میدان میں موجودگی جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ کسی مرحلے کا اختتام نہیں بلکہ ایران کے لیے بیداری، قوت مذاکرات اور قومی مفادات کے تحفظ کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، بشرطیکہ حکام عوام کی تاریخی استقامت کو اپنا نمونہ بناتے ہوئے قومی اصولوں اور مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کریں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *