
مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: محمد اکمل خان، اسلام آباد پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان چودہ نکاتی مفاہمتی یادداشت نے جنگ کے نتائج کو تبدیل کر دیا ہے۔ یہ دستاویز ہرگز وہ نتیجہ نہیں جس کےلئے واشنگٹن اور تل ابیب نے ایران پر جارحانہ حملے کئے۔ اس دستاویز میں نہ تہران میں حکومتی تبدیلی ہے، نہ ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی فیصلہ کن پابندی، نہ افزودہ جوہری مواد کی فوری بیرون ملک منتقلی، اور نہ ہی ایران سے غیر مشروط شکست قبول کرنے کا مطالبہ۔
اس کے برعکس یہ معاہدہ ایران کو فوری فوجی اور معاشی ریلیف فراہم کرتا ہے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولتا ہے، امریکی بحری دباؤ ختم کرتا ہے، معاشی پابندیوں میں نرمی کا پیش خیمہ بنتا ہے ، اور سب سے حساس جوہری معاملات کو ساٹھ روزہ مذاکراتی عمل کی جانب لے جاتا ہے۔
اس معاہدے کی اصل اہمیت یہی ہے کہ ایران جنگی نقصان کے باوجود مذاکرات کی میز پر کمزور فریق نہیں بنا۔ اس نے دباؤ اور جارحیت کے ماحول کو اپنے لیے رعایتوں میں بدلا اور اپنی جغرافیائی اہمیت کو سفارتی طاقت کے طور پر استعمال کیا۔
امریکا اور اسرائیل کا ایران پر جارحانہ حملے کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟
ایران پر جارحانہ حملوں کے دوران امریکا اور اسرائیل کی سیاسی زبان بہت واضح تھی۔ مقصد صرف جنگ بندی نہیں تھا۔ مقصد ایران کو اس حد تک دبانا تھا کہ وہ اپنی اسٹریٹجک پوزیشن سے پیچھے ہٹ جائے۔
واشنگٹن اور تل ابیب تین بڑے نتائج چاہتے تھے۔ پہلا، ایران کی ریاستی طاقت اور سیاسی اعتماد کو توڑنا۔ دوسرا، ایران کے جوہری پروگرام کو ایسے طریقے سے محدود کرنا جو فوری، واضح اور بیرونی کنٹرول میں ہو۔ تیسرا، ایران کے علاقائی اثر کو کم کرنا، خاص طور پر لبنان اور دیگر محاذوں پر۔
لیکن مفاہمتی یادداشت کی دستاویز میں یہ مقاصد دور دور تک حاصل ہوتے دکھائی نہیں دیتے ۔ ایران میں حکومتی نظام پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ موجود ہے۔ میزائل پروگرام اس دستاویز کے متن کا حصہ نہیں ۔ لبنان کو اسرائیل کی الگ سکیورٹی فائل کے طور پر نہیں بلکہ تمام محاذوں پر جنگ بندی کے بڑے فریم ورک میں شامل کیا گیا۔ جوہری مواد کا معاملہ بھی فوری ضبطی یا منتقلی کے بجائے ایک تکنیکی اور نگرانی والے عمل کے حوالے کر دیا گیا۔
یوں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ بلند بانگ دعووں کے ساتھ شروع ہوئی، مگر عبوری معاہدہ سفارتی گنجائش، پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور تین سو ارب ڈالر کے معاشی و تعمیر نو فریم ورک پر آ کر رکا۔ اسی لیے اسے امریکا اور اسرائیل کی ناکامی، اور ایران کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔
کیا ایران نے جوہری معاملے پر ہتھیار ڈال دئیے؟
امریکہ ایران مفاہمتی یاداشت کے متن کا بغور جائزہ لیں تو واضح دکھائی دیتا ہے کہ ایران نے جوہری معاملے میں ہتھیار نہیں ڈالے۔ ایران کا جنگ سے پہلے بھی یہی مؤقف تھا کہ وہ جوہری بم نہیں بنائے گا اور اس کا جوہری پروگرام توانائی، تحقیق اور پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ مفاہمتی یادداشت میں ایران نے اسی مؤقف کو دوبارہ دہرایا ہے۔ اس لیے اسے جوہری پروگرام سے دستبرداری نہیں کہا جا سکتا۔
اصل معاملہ افزودہ مواد کا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ مواد کو ایک متفقہ طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ کم از کم طریقہ یہ رکھا گیا ہے کہ یہ مواد ایران کے اندر ہی عالمی نگرانی میں کم افزودہ کیا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ جوہری مواد کو فوری طور پر ایران سے باہر منتقل نہیں کیا جا رہا۔
اس مفاہمتی یاداشت کے مطابق اس معاملے میں امریکہ کو فتح نہیں بلکہ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ جنگ کے آغاز پر واشنگٹن کے دعوے کہیں زیادہ جارحانہ تھے۔ امریکی بیانیہ یہ تھا کہ ایران کو اس حد تک دبایا جائے گا کہ اس کا جوہری مواد یا تو تباہ ہو، یا ایران سے باہر منتقل ہو، یا مکمل طور پر بیرونی کنٹرول میں چلا جائے۔ بعض امریکی بیانات میں تو ایرانی سرزمین پر براہ راست فوجی آپریشن کی بات بھی کی۔ لیکن مذاکرات کی میز پر امریکا کو افزودہ جوہری مواد کو ایران کے اندر ہی عالمی نگرانی کے تحت ایک تکنیکی طریقہ کار کے تحت کم افزودہ کرنے کے طریقہ پر اتفاق کرنا پڑا۔ یہ نتیجہ امریکی دعووں سے واضح پسپائی اور ایران کے لیے بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
ایران کو اس مفاہمت سے فوری فائدہ کیا ملا؟
اس معاہدے کی سب سے اہم بات اس کی ترتیب ہے۔ پہلے ریلیف، پھر حتمی شرائط۔
امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی فوری ختم کرنے کا عمل شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایرانی تیل، پیٹرولیم مصنوعات، بینکاری، انشورنس اور ٹرانسپورٹ سے متعلق پابندیوں میں چھوٹ کا راستہ کھولا گیا ہے۔ منجمد یا محدود ایرانی اثاثوں کو بھی مذاکراتی اور عملی فریم ورک میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ ایران کے لیے معمولی پیش رفت نہیں۔ جنگ سے پہلے ایران معاشی طور پر بند گلی میں تھا۔ تیل کی فروخت محدود تھی۔ بینکاری نظام پر دباؤ تھا۔ انشورنس اور شپنگ میں رکاوٹیں تھیں۔ سرمایہ کاری کے راستے بند تھے۔
اب وہی ایران، جنگ کے بعد، ایک ایسے معاہدے میں داخل ہوا ہے جس میں پابندیوں میں نرمی، تیل کی آمدنی، مالی راستوں کی بحالی اور تعمیر نو کی رقم شامل ہے۔ پابندیاں ختم ہونے کا عمل فوری مکمل نہیں ہو گا، مگر ایران پابندیوں کے سوال کو حاشیے سے نکال کر معاہدے کے مرکز میں لے آیا ہے۔یہی ایران کی اصل سفارتی کامیابی ہے۔
تین سو ارب ڈالر کا منصوبہ کیوں اہم ہے؟
معاہدے میں ایران کی تعمیر نو اور معاشی بحالی کے لیے کم از کم تین سو ارب ڈالر کے منصوبے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ رقم براہ راست امریکی خزانے سے آئے یا علاقائی شراکت داروں، سرمایہ کاروں اور عالمی مالی راستوں سے، ایران کے لیے بنیادی بات رقم کا ذریعہ نہیں بلکہ اس پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا متفق ہوناہے۔
امریکا اگر لائسنس، چھوٹ اور اجازت نامے جاری کرتا ہے تو ایران کے لیے سرمایہ، تیل کی آمدنی، انشورنس، شپنگ اور تعمیر نو کی فنانسنگ حرکت میں آ سکتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو پابندیوں کے دور میں ممکن نہیں تھی۔
ٹرمپ اسے امریکی امداد نہیں کہیں گے۔ وہ اسے علاقائی یا نجی سرمایہ کاری کا فریم ورک بتائیں گے۔ مگر ایران کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ چیک کون لکھے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن مالی راستے کھولے گا یا بند رکھے گا۔
اس معاہدے نے ایران کے لیے بند مالی اور سفارتی راستے کھول دیے ہیں۔ اسی لیے تین سو ارب ڈالر کا منصوبہ صرف تعمیر نو کا معاشی پیکج نہیں، بلکہ ایک بڑا سیاسی اشارہ بھی ہے۔ اس کے ذریعے ایران کو تنہائی سے نکال کر دوبارہ علاقائی معاشی سرگرمی، سرمایہ کاری اور تعمیر نو کے دائرے میں لانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز ایران کا سب سے بڑا کارڈ کیسے بنی؟
آبنائے ہرمز اس معاہدے کی مرکزی کنجی ہے۔ یہ صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ خلیج کی توانائی تجارت کی شہ رگ ہے۔ جنگ کے دوران ایران نے اسی جغرافیائی حیثیت کو مذاکراتی طاقت میں بدل دیا۔
معاہدے میں یہ کہیں یہ درج نہیں ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کو طاقت یا دھونس کے زور پر کھلوا یا ہے ، بلکہ اس حوالے سے ایران کو اہم اور لازمی فریق مانا گیا ہے۔ تجارتی جہازوں کی آمدورفت، فیس، سمندری خدمات اور علاقائی مشاورت کے معاملات ایران کی پوزیشن کو نظرانداز کر کے طے نہیں کیے گئے۔
اس نکتے پر معاہدے کی زبان نہایت اہم ہے۔ ایران کو شکست خوردہ ریاست کے طور پر حکم نہیں دیا گیا، بلکہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں ایک لازمی فریق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ عالمی منڈیوں کوآبنائے ہرمز کی بحالی درکار تھی، خلیجی ریاستوں کو سمندری استحکام چاہئے تھا، اور ٹرمپ کو تیل کی قیمتوں میں سکون چاہیے تھا۔ ایران نے ان تینوں ضرورتوں کو اپنی مذاکراتی طاقت میں بدل دیا۔ یہی تہران کا سب سے مضبوط کارڈ تھا، جسے معاہدے نے عملی طور پر تسلیم کر لیا۔
کیا لبنان میں جنگ بندی کو معاہدے کا حصہ بنانا ایران کی کامیابی ہے؟
اس معاہدے میں لبنان کی شمولیت ایران کی سفارتی کامیابی کا ایک بڑا ثبوت ہے۔ اگر جنگ صرف امریکا اور ایران تک محدود ہوتی تو لبنان کا ذکر غیر ضروری تھا۔ لیکن متن میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کی بات کی گئی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں معاہدہ صرف دو ریاستوں کے درمیان جنگ بندی نہیں رہتا، بلکہ پورے علاقائی تنازع کا فریم ورک بن جاتا ہے۔
اسرائیل نے پوری کوشش کی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے امریکی حکومت کو لبنان سے متعلق کسی بھی بندوبست سے دور رکھے۔ تل ابیب چاہتا تھا کہ لبنان کو ایران۔امریکا مفاہمت سے الگ رکھا جائے، تاکہ اسے وہاں اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے الگ گنجائش حاصل رہے۔ مگر ایران کا شروع دن سے مؤقف تھا کہ لبنان اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت بھی ایران۔امریکا جنگ کے وسیع تر تناظر سے جڑی ہوئی ہے۔
معاہدے میں لبنان کا ذکر اس بات کا واضح اعتراف ہے کہ واشنگٹن نے تنازع کی علاقائی نوعیت تسلیم کر لی۔ امریکا کو یہ ماننا پڑا کہ ایران کے ساتھ کوئی سنجیدہ تصفیہ اس کے علاقائی اثر کو نظر انداز کر کے ممکن نہیں۔ یہی ایران کے لیے بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
اس جنگ کے ذریعے اسرائیل نے پوری کوشش کی کہ ایران کو خطے سے الگ تھلگ کر دیا جائے، مگر مذاکرات کی میز پر کامیاب سفارت کاری نے اسے علاقائی تنازعے کا مرکزی فریق بنا دیا۔ یہ ایران کے لیے صرف سیاسی فائدہ نہیں، بلکہ خطے میں اس کےسیاسی وزن اور اثر کا باضابطہ اعتراف بھی ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ ایران خطے کے ہر گروہ کو مکمل طور پر کنٹرول کرتا ہے۔ مگر یہ ضرور واضح ہو گیا کہ لبنان،آبنائے ہرمز، پابندیاں اور جوہری معاملہ اب الگ الگ مسائل نہیں رہے۔ اس معاہدے نے ان سب کو ایک ہی بڑے سیاسی مباحثے کا حصہ بنا دیا ہے۔
امریکہ اس معاہدے میں میزائل پروگرام پر خاموش کیوں رہا؟
ایران کے میزائل پروگرام کا معاہدے میں مرکزی ذکر نہ ہونا اتفاق نہیں۔ یہ شاید ایران کی جنگی طاقت کا سب سے بڑااعتراف ہے۔
برسوں سے امریکا، اسرائیل اور مغربی ممالک ایران کے بیلسٹک میزائلوں کو خطے کا بڑا خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ جنگ کے دوران بھی یہی بیانیہ دہرایا گیا۔ لیکن جب معاہدہ سامنے آیا تو میزائل پروگرام کو عبوری ڈیل کی فیصلہ کن شرط نہیں بنایا گیا۔
اس خاموشی کو ٹرمپ کے جی 7اجلاس کے بعد پیرس میں بیان نے مزید اہم بنا دیا۔جہاں انہوں نے کہا کہ اگر خطے کے دوسرے ممالک، جیسے سعودی عرب اور قطر، بیلسٹک میزائل رکھتے ہیں تو ایران کے پاس بھی مناسب تعداد میں میزائل ہونا غیر منصفانہ نہیں۔
یہ بیان معمولی نہیں تھا۔ اس بیان نے جنگ سے پہلے کے اس بنیادی مطالبے کو ختم کردیا جس کے مطابق ایران کی میزائل صلاحیت بذات خود ناقابل قبول قرار دی گئی تھی۔ ٹرمپ نے عملی طور پر ایران کے میزائل پروگرام کو ایک علاقائی طاقت کے توازن کے تناظر میں رکھ دیا، نہ کہ مکمل پابندی کے سوال کے طور پر۔
اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے اپنا سب سے اہم روایتی دفاعی اثاثہ مذاکراتی میز پر آنے سے بچا لیا۔ جنگ نے ایران کو نقصان پہنچایا، مگر معاہدے نے اس کے میزائل ڈیٹرنس کو نہیں چھیڑا۔
اس معاہدے میں ایران نے کون سی امریکی تجاویز کو تسلیم کیا؟
بظاہر دیکھا جائے تو اس معاہدے کے نتیجے میں امریکا خالی ہاتھ نہیں رہا ہے۔ اسے اس دستاویز کے نتیجے میں خطے میں جنگ بندی ملی۔ آبنائے ہرمز کھولنے کا راستہ ملا۔ تیل کی منڈیوں میں بے چینی ختم ہوئی ۔ ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور نہ خریدنے کی یقین دہانی ملی۔ عالمی نگرانی کے تحت جوہری عمل کا فریم ورک ملا۔ اور ساٹھ دن کا وقت ملا جس میں حتمی معاہدے کی شرائط طے کی جائیں گی۔
لیکن یہ سب اس فتح کے برابر نہیں جس کا تاثر جنگ کے آغاز میں دیا گیا تھا۔ امریکا کو حکومت کی تبدیلی نہیں ملی۔ ایران کی غیر مشروط شکست نہیں ملی۔ میزائل پروگرام پر فیصلہ کن پابندی نہیں ملی۔ افزودہ مواد کی فوری بیرون ملک منتقلی نہیں ملی۔
واشنگٹن نے جنگ روکنے، منڈیوں کو سنبھالنے اور جوہری معاملے کو تکنیکی مذاکرات میں ڈالنے کا راستہ لیا۔ یہ عملی فیصلہ تھا، مگر اسے مکمل فتح کہنا مشکل ہے۔
اس لڑائی میں اصل جیت کس کی ہوئی؟
اگر جیت کا مطلب یہ ہے کہ ایران نے امریکا سے ہر مطالبہ واپس کروا دیا، تو ایسا نہیں۔ حتمی معاہدہ ابھی باقی ہے۔ جوہری نگرانی جاری رہے گی۔ پابندیوں میں نرمی بھی عملدرآمد سے جڑی رہے گی۔
لیکن اگر کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ ایران کا حکومتی نظام جنگ کے بعد بھی قائم رہا، ایران نے ایک ریاست کے طور پر ہتھیار ڈالنے سے گریز کیا، اپنے میزائل پروگرام کو مذاکرات کی میز سے دور رکھا، جوہری معاملے پر بات چیت کی گنجائش حاصل کی، پابندیوں میں نرمی لی، تیل اور مالی راستے کھلوائے، منجمد اثاثوں کو مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ بنایا، تین سو ارب ڈالر کی تعمیر نو کا خاکہ حاصل کیا، اور آبنائے ہرمز کو اپنی مذاکراتی طاقت کے طور پر منوا لیا، تو پھر یہ کہنا درست ہو گا کہ ایران نے مذاکرات کی میز پر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
اس معاہدے کا اصل نکتہ اس کی ترتیب میں پوشیدہ ہے۔ جس میں پہلے ایران کو فوری رعایتیں دی گئیں، پھر جوہری شرائط کو آئندہ مذاکرات پر چھوڑا گیا۔ یہ واشنگٹن اور تل ابیب کی دستاویز میں پسندیدہ ترتیب نہیں تھی مگر یہ تہران کا بنیادی مطالبہ تھا۔
ایران جنگ میں پابندیوں، معاشی گھیراؤ ، فوجی حملوں اور مرکزی قیادت کی شہادتوں کے ساتھ داخل ہوا، مگر معاہدے کے بعد وہ ایک مضبوط سیاسی نظام، وا ہوتے معاشی راستوں اور تسلیم شدہ مرکزی سفارتی حیثیت کے ساتھ سامنے آیا۔
اسے شکست نہیں کہا جا سکتا۔ یہ دباؤ کو مذاکراتی طاقت میں بدلنے کا عمل ہے، اور عالمی سیاست میں یہی خاموش مگر گہری کامیابی کہلاتی ہے۔
