آبنائے ہرمز پر قانونی حق مسلم ہے، منجمد اثاثے فوری آزاد کیے جائیں، خطیب زادہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی نائب وزیر خارجہ اسماعیل خطیب زادہ نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم اہم مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں اور مفاہمتی یادداشت میں پانچ نکات پر فوری عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو اس مفاہمتی یادداشت پر عمل کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ نیتن یاہو مفاہمت اور خطے میں استحکام کی کسی بھی کوشش کو ناکام نہ بنا سکے۔ اگر دوسرا فریق بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو ہم مرحلہ وار پیش رفت کے لیے تیار ہیں۔

خطیب زادہ نے کہا کہ قطر اور پاکستان نے اس مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کی کوششیں اس عمل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران غزہ سمیت تمام محاذوں پر امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، جبکہ لبنان کو جنگ سے براہ راست تعلق کی وجہ سے مفاہمتی یادداشت میں شامل کیا گیا۔ ان کے بقول ایران خطے پر غلبہ حاصل کرنا نہیں چاہتا بلکہ تمام علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ مفادات رکھتا ہے۔

نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران سلطنت عمان کے ساتھ ہم آہنگی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی خدمات فراہم کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے قانونی حقوق محفوظ ہیں، تاہم ساٹھ روزہ مدت کے دوران کسی قسم کی فیس یا محصول عائد نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ساٹھ دن کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک نیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا اور اس حوالے سے خطے کے ممالک کے سامنے ایک خصوصی تجویز پیش کی جائے گی۔

اسماعیل خطیب زادہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل کا کوئی بھی معاہدہ ایران کے تمام منجمد اثاثوں کی مکمل رہائی پر مشتمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان اور پورے خطے میں پائیدار امن اور استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسرائیلی قبضے کا خاتمہ نہ ہو اور اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی پابندی نہ کرے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *