حیدراباد -16جون ( اردو لیکس ڈیسک) پونے کی خصوصی ایم پی اور ایم ایل اے عدالت میں دائر ہتکِ عزت مقدمے کی سماعت کے دوران ہندوتوا نظریہ ساز ونایک دامودر ساورکر کے پڑپوتے ستیاکی ساورکر نے اعتراف کیا کہ ساورکر نے برطانوی دورِ حکومت میں اپنی سزا میں کمی کے لیے 10 مرتبہ رحم (کلیمنسی) کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
یہ بیان کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے خلاف دائر فوجداری ہتکِ عزت مقدمے کی جرح کے دوران سامنے آیا۔ راہول گاندھی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2023 میں لندن میں ایک تقریر کے دوران ساورکر کے بارے میں متنازع ریمارکس دیے تھے۔
خصوصی جج امول شندے کے روبرو پیش ہوتے ہوئے ستیاکی ساورکر نے کہا کہ ’’یہ درست ہے کہ ساورکر نے 10 مرتبہ رحم کی درخواستیں دائر کی تھیں۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان درخواستوں کے باوجود انہیں ’’ویر ساورکر‘‘ ہی کہا جاتا رہا۔
جرح کے دوران ستیاکی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسی دور کے انقلابیوں، جن میں راج گرو، بٹوکیشور دت اور اشفاق اللہ خان شامل ہیں، نے برطانوی حکومت سے رحم کی کوئی درخواست نہیں کی تھی۔ انہوں نے مزید اعتراف کیا کہ بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت اپنے نظریات پر آخر وقت تک قائم رہے اور انہوں نے برطانوی حکومت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
ستیاکی ساورکر نے عدالت کو بتایا کہ ساورکر کی رحم کی درخواستوں کے ریکارڈ سرکاری آرکائیوز میں محفوظ ہیں، تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ درخواستوں کی زبان سے برطانوی حکومت کے ساتھ وفاداری ظاہر نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ سزا میں کمی کے لیے رحم کی درخواست دینا اس دور میں ایک قانونی طریقۂ کار تھا اور اس میں کوئی غیر معمولی یا غیر قانونی بات نہیں تھی۔
تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کوئی ماہر رپورٹ موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ ساورکر کی درخواستیں محض حکمتِ عملی یا رسمی نوعیت کی تھیں۔ عدالت میں ایک درخواست کا حوالہ بھی پیش کیا گیا، جس میں ساورکر نے جیل میں مبینہ سخت سلوک کی شکایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیگر قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے جبکہ انہیں ’’کلاس ڈی قیدی‘‘ قرار دے کر رکھا گیا ہے۔
ستیاکی نے مزید اعتراف کیا کہ کسی بھی قیدی کو رحم کی درخواست دینے پر مجبور نہیں کیا جاتا تھا اور یہ مکمل طور پر ذاتی فیصلہ ہوتا تھا۔
یہ مقدمہ راہول گاندھی کی مارچ 2023 میں برطانیہ میں کی گئی تقریر سے متعلق ہے۔ ستیاکی ساورکر کا الزام ہے کہ راہل گاندھی نے ساورکر کے بارے میں غلط بیانات دے کر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ عدالت اب اس معاملے کی آئندہ سماعت یکم جولائی کو کرے گی۔

