
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات، بالخصوص لبنان سے متعلق شقوں، سے لبنانی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے۔
عباس عراقچی نے لبنان کے صدر جوزف عون اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے حالیہ مفاہمتی یادداشت کے مندرجات اور لبنان سے متعلق اس کی اہم دفعات پر روشنی ڈالی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے لبنان کے خلاف جنگ اور جارحیت کے خاتمے کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے اور لبنان پر صہیونی حکومت کے حملوں کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔
لبنانی صدر اور پارلیمانی اسپیکر نے معاہدے میں شامل دفعات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کا استحکام اور سلامتی خطے میں وسیع تر امن و استحکام کے قیام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے یادداشت میں لبنان کے خلاف جنگ کے خاتمے سے متعلق شقوں کی شمولیت پر بھی اطمینان اور قدردانی کا اظہار کیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ مفاہمتی یادداشت پاکستان کی ثالثی اور قطر، سعودی عرب اور ترکی کی حمایت سے کئی ہفتوں پر محیط بالواسطہ مذاکرات کے بعد طے پائی۔ حکام کے مطابق اس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کی شق شامل ہے اور اس پر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس مفاہمت کا مقصد ایک وسیع تر سیاسی تصفیے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے، جبکہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد 60 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع ہوگا، جس میں حتمی معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔ معاہدے کے مجوزہ حتمی متن میں آبنائے ہرمز کے انتظام اور لبنان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی ضمانتوں سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں۔
