جنگی نقصانات کی بحالی کا منصوبہ مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہے، تخت روانچی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے ایک باقاعدہ منصوبہ شامل کیا گیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج سفیروں کو مفاہمتی یادداشت کی شقوں سے آگاہ کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور اب کسی بھی محاذ پر دوبارہ جنگ نہیں ہوگی۔

تخت روانچی نے کہا کہ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان میں جنگ اور قبضے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ یادداشت میں تعمیرِ نو کے علاوہ ایران کے منجمد اثاثوں کا معاملہ بھی شامل ہے، جو غیر قانونی طور پر روکے گئے ہیں اور انہیں ایران کی دسترس میں آنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اور محاصرے کے خاتمے کا معاملہ بھی یادداشت کا حصہ ہے۔ ایران ابتدا ہی سے محاصرے کے خاتمے پر زور دیتا رہا ہے اور دستخط سے قبل اس سلسلے میں جزوی پیش رفت ہو چکی ہے۔

نائب وزیر خارجہ کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے، تاہم مقام اور طریقۂ دستخط، بشمول الیکٹرانک دستخط، کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دستخط کے فوراً بعد مذاکرات کا اگلا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔

تخت روانچی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جے ڈی وینس اور ایران کی جانب سے محمد باقر قالیباف دستخطی تقریب میں شریک ہوں گے۔ یادداشت کی ایک شق کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کی ضمانت دی گئی ہے اور اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کے تدارک کے لیے ایک طریقۂ کار بھی طے کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جوہری امور پر باضابطہ بات چیت شروع ہوگی، جس میں یورینیم کی افزودگی، جوہری ذخائر اور ایران کی جوہری ضروریات سمیت دیگر معاملات زیر بحث آئیں گے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *