
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کم از کم تین ایرانی تیل بردار جہازوں اور دو تجارتی بحری جہازوں نے، جو ضروری سامان لے جا رہے تھے، امریکی بحری محاصرے کے خاتمے کے بعد کامیابی کے ساتھ اپنا سفر دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ جہاز پیر کی شام بین الاقوامی پانیوں سے بلا رکاوٹ گزر گئے، جسے ایران اور امریکہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی پہلی عملی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔
بحری ذرائع کے مطابق یہ جہاز کئی ماہ سے ایران کے خلاف امریکی بحری محاصرے اور پابندیوں کے باعث پھنسے ہوئے تھے، تاہم اب وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے حتمی متن کے سامنے آنے کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں سامنے آئی، جس کے تحت ایران کے خلاف امریکی بحری محاصرے کے فوری خاتمے اور تمام محاذوں پر جنگی کارروائیوں کے اختتام پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ نے پیر کی صبح تصدیق کی تھی کہ تہران اور واشنگٹن نے مسلط کردہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا متن حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کے ساتھ ایران کے خلاف بحری محاصرے کو بھی ختم کیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے مطابق جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے وفود کے سربراہان کے درمیان ملاقات متوقع ہے، جہاں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے اور اس کے بعد نئے مذاکراتی دور کا آغاز ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اپریل میں اسلام آباد مذاکرات میں اپنے مقاصد حاصل نہ ہونے کے بعد ایران کے خلاف بحری محاصرہ عائد کیا تھا، تاہم نئے معاہدے کے بعد ایرانی تیل بردار اور تجارتی جہاز ایرانی اور بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ نقل و حرکت کے قابل ہوں گے۔
