ایران-امریکہ امن معاہدے کا پہلا مرحلہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر مرکوز ہوگا

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کی مفاہمتی یادداشت کے پہلے مرحلے میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔

تہران میں تعینات سفیروں، ناظم الامور اور بین الاقوامی مشنز کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے بعد جامع معاہدے تک پہنچنے میں مشکلات پیش آئیں، جس کے باعث مذاکرات کو دو مراحل میں تقسیم کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کے ساتھ ہی مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع ہو جائے گا، جو 60 دن تک جاری رہے گا اور اس دوران فریقین جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے سے متعلق حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

عراقچی کے مطابق تین ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات، جو جنگ کے دوران شروع ہوئے اور 15 جون تک جاری رہے، اپنے پہلے مرحلے میں مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد 19 جون، جمعہ سے شروع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پیر کی صبح جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا اور تمام محاذوں، بالخصوص لبنان میں فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ اس سمجھوتے کا سب سے اہم حصہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے قطر اور پاکستان کی جانب سے اس عمل کو آگے بڑھانے میں ادا کیے گئے کردار کو بھی سراہا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *