وجے کو واپس لوٹانے پر کپل سبل برہم، گورنر کو بی جے پی کا ایجنٹ قرار دیا

تمل ناڈو میں حکومت سازی کو لے کر سیاسی ہلچل تیز ہو گئی۔ گورنر کی جانب سے پہلے ٹی وی کے سربراہ وجے کو واپس لوٹائے جانے پر کپل سبل نے سخت تنقید کی، تاہم بعد میں وجے کو حکومت بنانے کی دعوت دے دی گئی

<div class="paragraphs"><p>کپل سبل / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>کپل سبل / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

تمل ناڈو میں نئی حکومت کی تشکیل سے پہلے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں، جب ریاست کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر نے پہلے ٹی وی کے سربراہ وجے کو حکومت سازی کے لیے فوری دعوت دینے سے گریز کیا۔ اس معاملے پر سینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گورنروں پر آئین کے غلط استعمال کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ بی جے پی کے ایجنٹ کی طرح کام کرتے ہیں۔

کپل سبل نے کہا کہ وجے اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر بن کر سامنے آئے ہیں، اس لیے انہیں حکومت بنانے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت کا اصول یہی ہے کہ سب سے بڑی جماعت کے قائد کو پہلے حکومت سازی کی دعوت دی جائے اور پھر ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع ملے۔ سبل نے سرکاریا کمیشن کی سفارشات اور آئینی روایتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخاب کے بعد بننے والے اتحاد کو فوری بنیاد پر اکثریت نہیں مانا جا سکتا مگر افسوس کہ ان اصولوں کو سننے والا کوئی نہیں۔

دریں اثنا ٹی وی کے سربراہ وجے نے جمعرات کو تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر سے ملاقات کی اور حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ دوسری جانب گورنر ہاؤس کی سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر نے ٹی وی کے صدر سی جوزف وجے کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا۔

بیان کے مطابق ملاقات کے دوران گورنر نے واضح کیا کہ تمل ناڈو اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے ضروری اکثریتی حمایت ابھی ثابت نہیں ہو سکی ہے۔ ٹی وی کے نے پہلی بار اسمبلی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، تاہم اکثریت کے لیے درکار 118 نشستوں سے کچھ سیٹیں کم رہ گئیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *