
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی اعلی انسانی حقوق کونسل نے بدھ کے روز جاری اپنے بیان میں مسلح تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے مرتکبین کی اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل کیے جانے پر اسرائیل کے ردعمل کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ہونے والے منظم اور وسیع پیمانے کے جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے منشور، انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانونی نظام کو خاطر میں نہیں لاتا۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اسرائیل نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین، بنیادی انسانی حقوق اور جنگ کے دوران نافذ بین الاقوامی انسانی ضوابط کی عملی پاسداری نہیں کرتا۔
کونسل نے شائع شدہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ 72 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل نے متعدد مواقع پر یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ نہ تو جنگ بندی معاہدوں کو اپنے لیے لازم سمجھتا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرتا ہے۔
ایرانی کونسل کے مطابق اس پالیسی کے نتیجے میں ہزاروں عام شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا زخمی ہوئے، بڑی تعداد میں لبنانی شہری بے گھر ہوئے، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور بھاری انسانی و معاشی نقصانات سامنے آئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط وجود کے دوران بہت کم ایسے نظام یا حکومتیں ملتی ہیں جن پر جارحیت، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے چار بڑے بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کے اتنے منظم اور مسلسل الزامات عائد ہوئے ہوں۔
کونسل نے اس صورتحال کے تسلسل کو مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ، کی سیاسی حمایت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل نے نہ صرف بین الاقوامی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ عالمی انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
