ایران کے خلاف جنگ پر امریکی کانگریس میں گرماگرمی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی حکمت عملی پر ہونے والی بریفنگ کے دوران امریکی کانگریس میں شدید تناؤ دیکھنے میں آیا۔ یہ اجلاس امریکی فوجی اور انٹیلی جنس حکام کی شرکت کے ساتھ منعقد کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق کانگریس کے باخبر ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کا ماحول انتہائی کشیدہ تھا اور ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے ارکان نے حکومتی حکام کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کے طریقہ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

این بی سی نیوز کے مطابق دونوں جماعتوں کے ارکان نے اس بات پر مشترکہ طور پر تشویش ظاہر کی کہ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی واضح نہیں ہے۔ خاص طور پر اس امکان پر زیادہ سوالات اٹھائے گئے کہ آیا امریکہ ایران کے خلاف زمینی فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے یا نہیں۔

اجلاس کے دوران متعدد امریکی قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران میں زمینی افواج کی تعیناتی ایک اسٹریٹجک غلطی ثابت ہوسکتی ہے اور اس کے خطے اور امریکہ دونوں کے لیے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

امریکی کانگریس کی رکن نینسی میس نے اجلاس کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ وہ ابھی کانگریس کی مسلح خدمات کمیٹی کی ایران کے بارے میں بریفنگ سے باہر آئی ہیں اور اس اجلاس کے بعد وہ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی کسی بھی تجویز کی حمایت نہیں کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ اس بریفنگ کے بعد ان کا مؤقف پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے کہ ایسی کارروائی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *