دوسری جانب کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب تک ڈپٹی اسپیکر کی تقرری نہیں کی گئی جو ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحث آگے بڑھانے سے پہلے ایوان کو یہ طے کرنا چاہیے کہ کارروائی کی صدارت کون کرے گا تاکہ کسی بھی قسم کی آئینی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
اس دوران بی جے پی کے سینئر رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے بھی مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جو رکن اس وقت چیئر پر موجود ہے اسے ایوان کی کارروائی چلانے کا مکمل اختیار حاصل ہے اور قواعد کے مطابق کارروائی جاری رکھی جا سکتی ہے۔
دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد ایوان کی صدارت کر رہے جگدمبیکا پال نے کہا کہ اسپیکر کا عہدہ خالی نہیں ہے، اس لیے چیئر کو کارروائی چلانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسپیکر اوم برلا نے خود فیصلہ کیا ہے کہ اس بحث کے دوران وہ ایوان کی صدارت نہیں کریں گے۔
