ہنومان کونڈا ضلع کے مچھریلا گاؤں کے اب تک 70 لوگ آنکھوں کا عطیہ کر چکے ہیں۔ گورنر نے اس گاؤں کو ‘ایکسلنس اِن آئی ڈونیشن’ ایوارڈ سے نوازا ہے۔


علامتی تصویر، آئی اے این ایس
آنکھوں کے عطیہ کے معاملے میں تلنگانہ سے ایک دلچسپ اور چونکانے والی خبر سامنے آئی ہے۔ کسی بھی شخص کے ذریعہ اپنی موت کے بعد آنکھوں کے عطیہ کے اِکا دُکا معاملے ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں تلنگانہ کے ایک گاؤں نے تو کمال ہی کر دیا ہے۔ دراصل ریاست کے ہنومان کونڈا ضلع کے گاؤں مچھریلا میں 500 لوگ رہتے ہیں۔ ان سبھی لوگوں نے موت کے بعد اپنی آنکھیں عطیہ کرنے کا حلف لیا ہے۔ گزشتہ کچھ سال میں تقریباً 70 گاؤں والے اپنی آنکھیں عطیہ بھی کر چکے ہیں۔ حال ہی میں گورنر نے اس گاؤں کو ‘ایکسلنس اِن آئی ڈونیشن’ ایوارڈ پیش کیا۔ اس کے بعد سے یہ گاؤں کافی سرخیوں میں ہے۔
اس گاؤں کے رہنے والے منڈالا رویندر آبپاشی محکمہ میں ڈویژنل انجینئر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دہائی قبل انہوں نے اپنی ماں کی آنکھیں عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق رویندر نے بتایا کہ میرا ماننا ہے کہ موت کے بعد اعضا خراب نہیں ہونے چاہیئں۔ میں نے سال 2019 میں اپنے والد کے اعضا عطیہ کیے تھے۔ میں نے خود بھی اپنی آنکھوں کا عطیہ کرنے کا حلف لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں دوسروں کو بھی اس کے لیے حوصلہ افزائی کرتا رہتا ہوں۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس سے بہت سے لوگوں کو مدد ملے گی اور ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔
اس نیک کام میں رویندر کو دیگر گاؤں والوں کا بھی ساتھ مل رہا ہے۔ گاؤں کے ملّا ریڈی نے بتایا کہ اگر کنبہ میں کسی کی بھی موت ہوتی ہے تو ہم اس بارے میں رویندر سر کو جانکاری دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہیں اور ڈاکٹر اس کے بعد کا عمل پورا کرتے ہیں۔ کنبہ والے اس معاملے میں پوری فعالیت کے ساتھ حصہ لیتے ہیں۔ یہ پہل انہیں متحد بھی بنا رہی ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی وہ کسی کو زندگی دے رہے ہیں۔
تلنگانہ کے اس گاؤں میں آنکھوں کے عظیہ کی شروعات کئی سال پہلے ہوئی تھی۔ تب کچھ گاؤں والوں نے آنکھوں کے عطیہ کا عزم کیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک بڑی مہم میں تبدیل ہو گئی۔ مچھریلا گاؤں کی اس مہم کا اثر دوسرے گاؤں میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایل وی پرساد آئی انسٹی چیوٹ میں 20 لوگوں نے آنکھوں کا عطیہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ میڈیکل پروفیشنل مسلسل گاؤں میں پہنچ رہے ہیں اور لوگوں کو آنکھوں کا عطیہ کرنے کے لیے بیدار کر رہے ہیں۔
اس سلسلے میں مچھریلا میں باضابطہ ایک سسٹم تیار کیا گیا ہے۔ اس میں آنکھوں کا عطیہ کرنے کا حلف لینے والوں کی پوری تفصیل ہے۔ ساتھ ہی ہنومان کونڈا ضلع کے اسپتالوں سے تال میل بھی بنایا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوراً ریسپانس مل سکے۔ گاؤں کی ایک خاتون سجاتا بی نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کی آنکھیں عطیہ کی ہیں اور مجھے اس پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے طبقے نے آنکھوں کے عطیہ کا ایک ماڈل بنانے کا حلف لیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔