جس نظم پر گجرات پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا، وہ عمران پرتاپ گڑھی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی، جس کے اشعار کچھ یوں تھے:
’’…اے خون کے پیاسے بات سنو
ہر دور میں ہم پر وار ہوا
ہر دور میں ہم تلوار بنے
ہم خاک ہوئے، ہم دھول ہوئے
پھر زندہ رہے، پھر پھول ہوئے…”