ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ جج ورما کو جب تک ان کے خلاف جاری تحقیقات مکمل نہ ہو جائے، تب تک انہیں عدالتی امور سے الگ رکھا جائے۔ اس معاملے پر 24 مارچ کو بار ایسوسی ایشن نے جنرل ہاؤس کی میٹنگ طلب کی ہے، جس میں ممکنہ طور پر بڑے فیصلے لیے جا سکتے ہیں۔
بار ایسوسی ایشن نے ایک چار صفحات پر مشتمل خط جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق جج ورما کے سرکاری بنگلے سے بڑی مقدار میں رقم برآمد ہوئی تھی۔ اسی کے بعد سپریم کورٹ کالجیم نے انہیں الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔ تاہم، بار ایسوسی ایشن نے اس سفارش کو غلط قرار دیا ہے۔
