مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اپنے علاقائی دورے کے سلسلے میں ایک بار پھر مختصر دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کی اسلام آباد واپسی حالیہ ملاقاتوں اور مشاورت کے تسلسل کے لیے ہے اور اس کا جوہری معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
عراقچی نے اپنے علاقائی دورے کے دوران پہلے اسلام آباد کا دورہ کیا، اس کے بعد عمان گئے اور اب دوبارہ پاکستان پہنچے ہیں تاکہ پاکستانی حکام کے ساتھ جاری سفارتی مشاورت کو آگے بڑھایا جاسکے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق اس دورے میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق شرائط پاکستان تک پہنچانا بھی اہم ایجنڈا ہے، کیونکہ پاکستان اس معاملے میں ثالثی کردار ادا کررہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان شرائط میں آبنائے ہرمز پر نئے قانونی نظام کے نفاذ، جنگی نقصانات کا ازالہ، دوبارہ فوجی جارحیت نہ کرنے کی ضمانت، سمندری محاصرے کا خاتمہ اور دیگر امور شامل ہیں جن پر ایران کی جانب سے زور دیا جا رہا ہے۔
عراقچی کی سفارتی سرگرمیوں کا ایران کے جوہری پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
