
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان نے صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے جنگ بندی سے متعلق بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے آج صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعوی کیا کہ حزب اللہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور اسرائیل کو امریکہ اور لبنان کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت لبنان میں آزادی سے کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نتن یاہو کا بیان قابل مذمت ہے اور اس خطرناک کوشش کے بارے میں خبردار کرتی ہے جس کے ذریعے لبنان کی حکومت کو ایک ایسے دوطرفہ معاہدے میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صرف نیتن یاہو اور واشنگٹن کے درمیان طے پایا ہے، جبکہ لبنان کی اس میں کوئی رائے یا مؤقف شامل نہیں تھا اور اس لیے اس نے اس کی توثیق بھی نہیں کی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض اسرائیلی دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور شمالی مقبوضہ فلسطین میں دشمن کی بستیوں پر گولہ باری کرنا، دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا جائز اور قانونی جواب ہے۔ عارضی جنگ بندی کے پہلے ہی دن سے دشمن نے 500 سے زائد مرتبہ زمینی، بحری اور فضائی خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں گولہ باری، بمباری اور گھروں کی تباہی شامل ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
حزب اللہ نے کہا کہ لبنانی حکام کے مطابق جنگ بندی کو چند ہفتوں کے لیے بڑھانے کا مقصد حقیقی جنگ بندی قائم کرنا تھا جس میں دشمن اپنی جارحیت اور حملے، خصوصاً جنوبی علاقوں میں بمباری اور گھروں کی تباہی بند کر دیتا۔ لیکن اس کے برعکس دشمن نے اپنے حملے مزید تیز کر دیے اور اس طرح اپنے مجرمانہ رویے، بدعہدی اور بین الاقوامی قوانین و معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی کو ثابت کر دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ لبنانی حکام کا دعویٰ تھا کہ واشنگٹن میں دشمن کے ساتھ اپنی بدنام نشست میں شرکت کی بنیادی شرط یہ تھی کہ حملے روکے جائیں اور ہماری مقبوضہ سرزمین سے اس کی واپسی شروع ہو۔ تاہم ہم نے ان کی طرف سے کوئی واضح اور علانیہ بیان نہیں سنا جس میں اس شرط کو بیان کیا گیا ہو۔ اس کے برعکس لبنان کے نمائندے کی جانب سے صرف امریکی صدر کی تعریف سامنے آئی، جو لبنانی عوام کے قتل عام میں شریک ہے اور جس نے دشمن کو مزید حملوں اور جارحیت کی ترغیب دی۔
بیان میں کہا گیا کہ آج حکام خاموش اور اپنی سرزمین اور عوام کے حوالے سے بنیادی قومی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں اور صرف دشمن کو گھروں کو تباہ کرتے اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو جلاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ واضح طور پر بتائیں کہ دشمن کو اس معاہدے کے ذریعے حملہ، تباہی اور قتل کی آزادی دینے کا جواز کیا ہے۔
بیان میں تاکید کی گئی کہ حزب اللہ واضح اور دوٹوک انداز میں اعلان کرتی ہے کہ دشمن کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی جاری ہے۔ اس کا مقابلہ ردعمل اور مزاحمت سے کیا جائے گا۔ یہ حق بین الاقوامی قوانین کے تحت بھی تسلیم شدہ ہے۔ ہم نہ ناکام سفارت کاری کا انتظار کریں گے اور نہ ہی ایسی حکومت پر انحصار کریں گے جو اپنے وطن کی حفاظت سے عاجز ہو۔ اس سرزمین کے بیٹے ہی اس جارحیت کا مقابلہ کرنے اور قبضے کو شکست دینے کے حقیقی ضامن ہیں۔
