مقاومت کی برکت سے خبیث صہیونی حکومت کا خاتمہ ہوگا، رہبر معظم

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نوروز کے موقع پر 21 مارچ 2025 کو تہران میں حسینہ امام خمینی حسینیہ میں خصوصی خطاب کیا۔

سرکاری حکام اور عوامی نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایرانی قوم نوروز کو ایک روحانی اور معنوی عید تصور کرتی ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ اس سال ثقافتی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو نہج البلاغہ کے مطالعے اور اس کی تعلیم و ترویج پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے شبہائے قدر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان بابرکت راتوں میں دعا اور تضرع کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔ لیلۃ القدر کی راتیں انسانی زندگی اور حتی کہ پوری قوم کے مقدر کو بدل سکتی ہیں، بشرطیکہ انسان اخلاص اور توجہ کے ساتھ دعا کرے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ اللہ تعالی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ بندوں کی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے، بشرطیکہ انسان خود کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرے۔ دعا نہ صرف آخرت بلکہ دنیاوی زندگی بھی کامیابی کا ذریعہ ہے خواہ ذاتی امور ہوں خواہ اجتماعی اہداف۔

انہوں نے توسل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام خدا کی قدرت اور علم کا مظہر ہیں اور ان کے وسیلے سے دعا کرنا الہی مدد حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انبیاء کرام (ع) بھی مشکلات میں اللہ کی بارگاہ میں دعا اور تضرع کیا کرتے تھے۔ ہمیں بھی اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ دشمنوں زہریلے پروپیگنڈوں کے ذریعے ایرانی عوام کو معنویت سے دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ ایرانی عوام نے اللہ کی وحدانیت اور اہل بیت علیہم السلام سے توسل کی طرف اپنی توجہ مزید بڑھا لی ہے اور معنویت کی طرف ان کا رجحان بڑھ ہوچکا ہے۔

 آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ قرآن مجید میں حضرت موسی علیہ السلام کی فرعون کے خلاف جدوجہد کا ذکر ہے، جب انہوں نے اللہ سے مدد کی دعا کی اور خدا نے جواب دیا کہ تم نے دعا کی اور جو تم نے چاہا وہ پورا کردیا، اب ثابت قدم رہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا کی اس ہدایت پر عمل کیا اور خون کی جنگ میں شمشیر کے مقابلے میں خون کو فتح ملی۔ ملت ایران کا بھی یہی حال ہے اور یہ جدوجہد اسی طرح جاری رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حق کی طرف سے کی جانے والی یہ جدوجہد کبھی کبھی قیمت بھی چکاتی ہے۔ ہمیں گذشتہ سال کے حادثات کو اسی نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ حق اور باطل کی اس جنگ میں فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے، لیکن اس راستے میں حق کو کچھ قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔

رہبر معظم نے کہا کہ گزشتہ سال کئی عظیم شخصیات کا ہم سے بچھڑ گئیں، جو ہمارے لیے ایک بڑی مصیبت تھی۔ تاہم، انہوں نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہمیں شک نہیں کرنا چاہیے کہ آخرکار مقاومت کی بدولت فاسد، خبیث اور فاسق صیہونی رژیم کا خاتمہ ہو گا اور وہ شکست سے دوچار ہو گی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *