
نئی دہلی۔ ماہرین ارضیات نے جھارکھنڈ کے پاکوڑ ضلع کے برمسیا گاؤں میں ایک اہم ’خزانہ‘ دریافت کیا ہے جو کہ تقریباً 14.5 کروڑ سال قدیم ہے۔ یہ انوکھا پتھریلا درخت یا ’پیٹریفائیڈ سنگوارہ‘ (فوسل) دریافت کیا گیا ہے جس کے بارے میں ماہر ارضیات ڈاکٹر رنجیت کمار سنگھ اور فاریسٹ رینجر رام چندر پاسوان نے تفصیلات فراہم کیں۔
ڈاکٹر رنجیت کمار سنگھ نے بتایا کہ یہ دریافت منگل 25 فروری کو ہوئی جس کے دوران ماہرین نے ایک قدیم درخت کے پیٹریفائیڈ سنگوارہ کی باقیات کی نشاندہی کی۔ اس کی عمر تقریباً 10 سے 14.5 کروڑ سال بتائی جا رہی ہے۔ یہ دریافت نہ صرف سائنسی دنیا کے لیے اہم ہے بلکہ مقامی لوگوں کے لیے بھی فخر کی بات ہے کیونکہ یہ علاقے کے قدرتی ورثہ کی نشاندہی کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے حیاتیاتی تاریخ کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ڈاکٹر رنجیت کمار سنگھ نے مزید کہا کہ اس علاقے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ پیٹریفائیڈ سنگوارہ کی عمر اور اس کے ماحولیاتی تناظر کا صحیح طور پر جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ اس علاقے کو محفوظ کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اس اہم قدرتی ورثے کا مطالعہ اور اس کی قدر کر سکیں۔
فاریسٹ رینجر رام چندر پاسوان نے مقامی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس علاقے کی حفاظت میں تعاون کریں اور کسی بھی غیرقانونی سرگرمی سے بچیں جو اس تاریخی مقام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دریافت سے علاقے میں سیاحت کو فروغ ملنے کی امید ہے جس سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
اس دریافت کے بعد ارضیاتی ماہرین اور دیگر محققین نے علاقے کا تفصیلی سروے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ مزید معلومات حاصل کی جا سکیں اور علاقے کی ارضیاتی سرگرمی، ماحولیاتی تحفظ، حیاتیاتی تنوع اور ارضیاتی تاریخ کو محفوظ کیا جا سکے۔ ڈاکٹر رنجیت کمار سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکوڑ ضلع پیٹریفائیڈ سنگوارہ سے مالا مال ہے اور اس علاقے کو سائنس اور سائنسی تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
جھارکھنڈ کے محکمہ جنگلات کے ڈویژنل فاریسٹ آفیسر منیش تیواری کے ساتھ مل کر زمین کی وراثت کے تحفظ کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے میں مقامی لوگوں، منتظمین، محکمہ جنگلات اور ریاست کے محکمۂ ماحولیاتی سیاحت کے ساتھ مشاورت کی جا رہی ہے۔
ساتھ ہی علاقے میں ایک جیو پارک بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس کی قدرتی اور ارضیاتی اہمیت کو مزید اجاگر کیا جا سکے۔