وزیر اعلیٰ کے مطابق خام مال کی مسلسل فراہمی اب صرف درآمدات کے ذریعے ہی یقینی بنائی جا سکتی ہے، لیکن کپاس پر موجودہ 11 فیصد درآمدی محصول کے سبب درآمد مہنگی اور صنعت کے لیے غیر منافع بخش ثابت ہو رہی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ گزشتہ 2 مہینوں میں کپاس کی قیمت 54,700 روپے سے بڑھ کر 67,700 روپے فی کینڈی ہو گئی ہے، یعنی تقریباً 25 فیصد کا زبردست اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اسی مدت کے دوران دھاگے کی قیمت بھی 301 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 330 روپے فی کلوگرام ہو گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجئے نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پی ایم مودی کو لکھا پہلا خط، کپاس پر لگنے والا ٹیکس ختم کرنے کی گزارش
