قابل ذکر ہے کہ انٹونیشیا میں پرانے ریل نیٹورک سسٹم کی وجہ سے اس طرح کے حادثات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ جنوری 2024 میں مغربی جاوا میں 2 ٹرینوں کی ٹکر میں 4 لوگ مارے گئے تھے۔ وہیں 2010 میں وسطی جاوا میں ایک ٹرین نے دوسری ٹرین کو پیچھے سے ٹکر ماردی تھی جس میں 36 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اکتوبر 2013 میں بھی ایک بغیر چوکیدار والی کراسنگ پر ٹرین اور منی بس کے تصادم میں 13 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اب یہ حادثہ ایک بار پھر ریلوے سیکورٹی پر سوال کھڑے کر رہا ہے۔
انڈونیشیا کی راجدھانی جکارتہ میں خوفناک ریل حادثہ، 14 مسافر ہلاک، درجنوں افراد زخمی، راحت رسانی کا کام جاری
