
امریکی اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کی بات چیت ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وفد کو پاکستان جانے کی تیاری کے دوران ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک ہدایت دی کہ “بے نتیجہ مذاکرات کے لیے اتنا طویل سفر نہ کیا جائے”، جس کے بعد وفد کا دورہ منسوخ کر دیا گیا۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں اپنی مطالبات کی فہرست بھی پیش کی گئی، تاہم امریکی مذاکرات کا براہِ راست ذکر سامنے نہیں آیا۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کی جانب سے اس ملاقات میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔
دوسری جانب ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا کوئی فوری منصوبہ موجود نہیں، جس کے باعث اس عمل میں مزید تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

