مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ مسلسل ناکام ہورہا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کے دوران جب فریقین کسی معاہدے کے قریب نزدیک پہنچے تھے اتنے میں امریکی وفد واپس واشنگٹن چلا گیا اور مذاکرات کو ناکام قرار دیا۔ امریکی مذاکرات کاروں کی کمزوریوں پر عالمی سطح پر اعتراضات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض افراد کے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ہونے یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خاندانی تعلقات نے مغربی میڈیا میں اس ٹیم کا مذاق بننے کا باعث بن گیا ہے۔
اسی دوران ملکی اور عالمی فیصلوں میں حکومت کو مشورہ دینے والے امریکی تھنک ٹینکس نے بھی مذاکرات کاروں کی نااہلی کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کی ایک اہم وجہ قرار دیا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سِٹِمسَن سینٹر نے امریکی مذاکراتی ٹیم کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ٹیم کے غیر پیشہ ورانہ رویے سے پیدا ہونے والے مسلسل تناؤ نے ایران کا اعتماد ختم کر دیا۔
جبکہ فاؤنڈیشن کارنیگی نے کہا کہ امریکی ٹیم ایک دائمی کمی یعنی سفارتی مہارت کی کمی کا شکار ہے۔
برطانوی اخبار ٹائمز نے بھی لکھا ہے کہ ٹرمپ کی غیر تجربہ کار اور غیر ماہر مذاکراتی ٹیم ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
امریکی مذاکرات کاروں کی نااہلی پر تنقید صرف امریکی تھنک ٹینکس تک محدود نہیں۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی سابق سربراہ اور جوہری معاہدے کی مذاکرات کار فیڈریکا موگرینی نے امریکی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے پاس ایسے مذاکرات کار ہیں جو فنی اور سیاسی علم رکھتے ہیں، جب کہ امریکہ کے مذاکرات کار اس قابلیت سے محروم ہیں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں بعض امریکی مذاکرات کاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ پہلے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں کام کر چکے ہیں، وہ جوہری مذاکرات کی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھتے، کیونکہ جوہری مذاکرات جائیداد کے سودوں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔
