مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے کہا کہ ترون کا قتل ایک باہمی جھگڑے کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے لیکن اس واقعے کے بعد جو ماحول بنایا جا رہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق ملک میں پھیلائی جا رہی فرقہ پرستی اور نفرت کی سیاست نے پہلے ہی سماجی تانے بانے کو کمزور کیا ہے، اور ایسے واقعات کو استعمال کر کے مزید کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی جرم میں کوئی شخص ملوث ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ قانون کی بالادستی کا تقاضا یہی ہے کہ ہر معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں اور عدالت کے ذریعے انصاف فراہم کیا جائے۔ لیکن اگر انصاف کے بجائے فوری کارروائی کے نام پر انکاؤنٹر، اجتماعی سزا یا غیر قانونی بلڈوزر کارروائی کو فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف قانون کی روح کے خلاف ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔
