ضبط شدہ آئل ٹینکر کا ایندھن حکومت کی تحویل میں دیا جائے، ایرانی عدالت کا حکم

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ ہرمزگان کے چیف جسٹس مجتبی قہرمانی نے اعلان کیا ہے کہ حال ہی میں خلیج فارس میں ضبط کیے گئے غیر ملکی ٹینکر اور اس میں موجود اسمگل شدہ ایندھن کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے گا۔ ضبط کیے گئے ایندھن کی مقدار تقریبا 40 لاکھ لیٹر ہے، جس کی مالیت 52 لاکھ ڈالر سے زائد بتائی گئی ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق یہ کارروائی ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایژہ ای کی ہدایات پر ایندھن اسمگلنگ کے خلاف عمل میں لائی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سپاہ پاسداران انقلاب نے اس غیر ملکی جہاز کو قبضے میں لے کر اس پر سوار 16 غیر ملکی عملے کے ارکان کو گرفتار کر کے عدالتی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

قہرمانی نے مزید کہا کہ جہاز کی خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمہ قشم کے پبلک اور انقلابی پراسیکیوٹر کے دفتر میں درج کر لیا گیا ہے۔ ایران کی عدلیہ ایندھن اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کو ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے ایک بنیادی ترجیح سمجھتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ خلیج فارس، ایران کے ساحلی علاقوں اور جزیروں میں اسمگلروں کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہوگی اور اس رجحان کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران اور پڑوسی ممالک کے درمیان ایندھن کی قیمتوں کے فرق کے باعث اسمگلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے پیش نظر ایرانی حکام نے نگرانی اور کارروائیاں مزید سخت کردی ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *