
وزیراعظم نریندر مودی نے حیدراباد کے سکندرآباد پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی جنگوں اور عالمی تنازعات نے گلوبل سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر کم از کم ایک سال تک سونے کی خریداری کو روک دیں
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بین الاقوامی حالات کے باعث سونے کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں اگر عوام تہواروں اور شادی بیاہ جیسے مواقع پر سونے کی بڑے پیمانے پر خریداری کم کریں تو ملک سے بیرونِ ملک جانے والا قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے، جو قومی ترقی کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
انہوں نے صرف سونے کی خریداری ہی نہیں بلکہ غیر ملکی سیاحت اور بیرونِ ملک منعقد ہونے والی ’’ڈیسٹینیشن ویڈنگز‘‘ کو بھی کم کرنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق اگر یہ اخراجات ملک کے اندر ہی کیے جائیں تو مقامی معیشت مضبوط ہوگی اور اندرونی بازار کو فائدہ پہنچے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خوردنی تیل اور کھاد کے معاملے میں بھی بھارت کو دیگر ممالک پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں کھاد کی قیمتیں بہت زیادہ ہونے کے باوجود حکومت سبسڈی دے کر کسانوں کو کم قیمت پر یوریا فراہم کر رہی ہے، تاہم کسانوں کو زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کے لیے کیمیائی کھادوں کا استعمال بھی کم کرنا چاہیے۔
مودی نے عوام سے اپیل کی کہ ہر بھارتی شہری ’’سودیشی اشیاء‘‘ کے استعمال کا عہد کرے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک درآمدات پر انحصار کم نہیں ہوگا، تب تک حقیقی ترقی ممکن نہیں۔ مقامی مصنوعات کے فروغ کے ذریعے ہی ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کا خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پڑوسی ممالک میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، لیکن بھارت میں عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے اس کے لیے حکومت مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی درآمد پر ہونے والا بھاری خرچ ملکی معیشت پر دباؤ ڈال رہا ہے، اس لیے عوام کو ایندھن کے استعمال میں کمی لانی چاہیے۔
انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ، ریلویز میں ڈیزل کے استعمال میں کمی اور ’’ورک فرام ہوم‘‘ جیسے متبادل طریقوں کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ممکن ہوگی۔
