عادل آباد: زبانیں الگ ہوں، رسم و رواج الگ ہوں یا روایات مختلف ہوں یہ سب محبت اور رشتوں کے درمیان رکاوٹ نہیں بنتیں ایک جوڑے نے یہ بات ثابت کر دی۔عادل آباد کے نوجوان اور انگلینڈ کی لڑکی ایک دوسرے کے شریکِ حیات بن گئے۔
لوگوں نے اس جوڑے کو محبت اور رشتے کی خوبصورت مثال قرار دیتے ہوئے مبارکباد دی۔عادل آباد ضلع کے کرشن نگر علاقے سے تعلق رکھنے والے بھوشیٹی مہندر بھارتی کے بیٹے بھوشیٹی سائی چرن تقریباً دس سال پہلے اعلیٰ تعلیم
کے لیے لندن گئے تھے جہاں بعد میں وہ کاروبار میں مستحکم ہوگئے۔ اسی دوران لندن کے کارڈف علاقے سے تعلق رکھنے والے کم ہینوچ اور گیریتھ ہینوچ کی بیٹی میا مے سے ان کی ملاقات ہوئی۔ یہ دوستی آہستہ آہستہ محبت میں بدل
گئی۔پانچ سال تک محبت کے رشتے میں رہنے کے بعد سائی چرن اور میا مے نے اپنے خاندانوں کو راضی کرکے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں خاندانوں کی رضامندی کے بعد 10 مئی کو شاندار انداز میں شادی کی تقریب منعقد ہوئی
جہاں دونوں نے ہندو رسم و رواج کے مطابق سات پھیرے لے کر ازدواجی زندگی کا آغاز کیا۔چونکہ میا مے کے والدین ہندوستان نہیں آسکے اس لیے سائی چرن کی پھوپھی نے دلہن کی جانب سے تمام رسومات ادا کیں۔گزشتہ ماہ یہ جوڑا
ہندوستان آیا تھا تاکہ یہاں کی روایات کے مطابق شادی کر سکے۔ دلہن میا مے کو تلنگانہ کی ثقافت خاص طور پر عادل آباد کا ماحول بہت پسند آیا اسی لیے اس نے ہندو روایات کے مطابق شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کی خواہش
کے مطابق دونوں خاندانوں اور بزرگوں کی موجودگی میں یہ شادی روایتی انداز میں انجام پائی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دلہن کے والدین کی غیر موجودگی میں عادل آباد کے بوداکُنٹی نتیش اور ونجا نامی میاں بیوی نے “کنیا دان” کی رسم ادا
کی۔ مختلف ممالک زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود، سائی چرن اور میا مے نے وید منتروں اور عزیز و اقارب کی موجودگی میں شادی کے مقدس بندھن میں بندھ کر یہ ثابت کر دیا کہ محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
