
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائی کے آغاز سے پہلے عراق کی سرزمین پر ایک خفیہ اڈا قائم کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ اڈا کارروائی شروع ہونے سے کچھ ہی وقت پہلے عراق کے صحرا میں قائم کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقام کو اسرائیلی اسپیشل فورسز کے اڈے اور اسرائیلی فضائیہ کے لیے لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے مزید لکھا کہ جنگ کے آغاز میں اسرائیل نے عراقی فورسز کے خلاف فضائی حملے بھی کیے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ عراقی فورسز اس خفیہ اڈے کے بارے میں جاننے والی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس اڈے پر ریسکیو ٹیمیں تعینات تھیں تاکہ اگر اسرائیلی جنگی طیارے گرجائیں تو فوری امدادی کارروائی کی جاسکے۔
ذرائع کے مطابق اصفہان کے قریب ایک امریکی ساختہ ایف-15 طیارہ گرنے کے بعد اسرائیل نے اس کے عملے کو بچانے کے لیے آمادگی ظاہر کی اور امدادی کارروائیوں کی حمایت میں فضائی حملے بھی کیے۔
