مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں ایرانی ساحلی علاقوں اور متعدد ایرانی آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں مالی نقصان اور عملے کے متعدد افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد ایران کی مسلح افواج نے سخت اور مربوط ردعمل ظاہر کیا ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور ایرانی مسلح افواج کے اعلی حکام نے غیر معمولی بیانات جاری کرتے ہوئے اسٹریٹجک صبر کے خاتمے اور فعال دفاعی بازدارندگی اور جوابی جارحانہ کارروائی کے مرحلے میں داخل ہونے کا اعلان کیا ہے۔
خطے میں بحری، میزائل اور ڈرون یونٹس کی وسیع تعیناتی اور نگرانی کرنے والے ڈرونز کی پروازوں میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مکمل جنگی تیاری میں ہے اور کسی بھی غلط اندازے کی صورت میں خلیج فارس دشمنوں کے لیے آگ کا جہنم بن سکتا ہے۔
سپاہ پاسداران کی بحریہ کا سخت انتباہ
سپاہ پاسداران کی بحریہ نے ایک انتہائی سخت اور غیر معمولی بیان میں کہا کہ خلیج فارس کی سکیورٹی صورتحال اب مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی تجارتی جہازوں، آئل ٹینکروں یا بحری جہازوں پر کسی بھی حملے کا جواب صرف سمندر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ امریکی فوجی اڈے، سینٹکام کے مراکز، طیارہ بردار بحری جہاز اور خطے میں موجود اہم تنصیبات براہ راست نشانہ بنیں گی۔
سپاہ نے واضح کیا کہ ایران کی توانائی برآمدات اور بحری راستوں کی سلامتی ناقابل تقسیم سرخ لکیر ہے اور اگر ایرانی توانائی کی ترسیل میں خلل ڈالا گیا تو اس کا جواب مخالف ممالک کی تیل برآمدات کو متاثر کر کے دیا جائے گا۔
ایرانی میزائل اور ڈرون دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے مکمل تیار
سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے کمانڈر سید مجید موسوی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون دشمن پر مکمل لاک ہو چکے ہیں اور صرف فائرنگ کے حکم کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی اڈوں، کمانڈ سینٹرز اور جنگی بحری جہازوں سمیت سینکڑوں اہم اہداف کی معلومات پہلے ہی سسٹمز میں فیڈ کی جا چکی ہیں جبکہ نگرانی کرنے والے جدید ڈرون چوبیس گھنٹے معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فتاح ہائپرسونک میزائل، جدید کروز میزائل، شاهد-136 اور شاهد-238 خودکش ڈرونز اور الیکٹرانک جنگی نظام دشمن کے دفاعی سسٹمز جیسے پیٹریاٹ، تھاڈ اور ایجس کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکا کے اتحادیوں کو بھی سخت پیغام
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ اس وقت اسٹریٹجک، عسکری اور انٹیلی جنس برتری مکمل طور پر ایران کے پاس ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خلیج فارس کے وہ ممالک جو امریکا کو اپنی سرزمین، فضائی حدود، سمندری حدود یا فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دیں گے، انہیں دشمن کی جنگی مشین کا حصہ تصور کیا جائے گا اور وہ ایران کے لیے جائز عسکری ہدف ہوں گے۔
صبر کا دور ختم ہو چکا
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ اب ایران کا صبر ختم ہو چکا ہے اور ایرانی بحری جہازوں پر کسی بھی حملے کا جواب امریکی جہازوں اور فوجی اڈوں پر سخت کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وقت امریکا کے خلاف جا رہا ہے اور واشنگٹن کے لیے بہتر یہی ہے کہ مزید غلطی نہ کرے۔ ان کے بقول خطے میں ایک نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اور امریکا کو اس حقیقت کو قبول کرنا ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 10 مئی کو ایک تاریخی موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جب ایران نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ خلیج فارس میں “مارو اور بھاگو” کی پالیسی اب ختم ہو چکی ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور طاقت کے ساتھ ہر محاذ پر جواب دیا جائے گا اور ملک اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
