مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دمشق کے علاقے سیدہ زینبؑ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو شدید الفاظ میں قابلِ مذمت قرار دیا۔ اس حملے میں ممتاز عالم دین اور حرم حضرت زینبؑ کے خطیب جمعہ سید فرحان حسن المنصور شہید ہوئے۔
اسماعیل بقائی نے اس سنگین اور دلخراش واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام اور خطے میں مقدس مقامات اور مذہبی علماء کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں دراصل امریکہ اور صہیونی حکومت کی شیطانی سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے کے ممالک میں فتنہ، فساد اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانا ہے۔
ترجمان نے زور دیا کہ تمام مسلمان ایسی سازشوں سے ہوشیار رہیں اور دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنے کی اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
انہوں نے شہید عالم دین کے اہلِ خانہ، شامی عوام اور شام کے دینی علماء و مذہبی طبقے سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دہشت گردانہ جرم کے اصل مجرموں اور منصوبہ سازوں کی شناخت اور انہیں سخت سزا دینا نہایت ضروری ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سنجیدہ اور اجتماعی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام کی عبوری حکومت کی ذمہ داری پر بھی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ شام میں عوام، علماء اور تمام نسلی، مذہبی اور دینی طبقات کی حفاظت اور امن و امان کو یقینی بنانا عبوری حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
