قابل ذکر ہے کہ آسام میں کانگریس نے رائجور پارٹی، آسام جاتیہ پریشد (اے جے پی)، سی پی آئی (ایم)، اے پی ایچ ایل سی اور سی پی آئی (ایم ایل) کے ساتھ مل کر انتخاب لڑا ہے۔ یہ سبھی پارٹیاں حکومت سازی کو لے کر پُراعتماد دکھائی دے رہی ہیں۔ میٹنگ کے بعد کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی ایگزٹ پول کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ووٹرس میں خوف کا ماحول ہے، اس لیے لوگ کھل کر اپنی رائے نہیں رکھ پائے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی سے متفق نہیں ہونے والوں کو سرکاری منصوبوں کا فائدہ نہیں مل رہا ہے اور ان کی ٹیم مضبوط و متحد ہے۔ شیوکمار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے کچھ لیڈران شکست کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے کانگریس کے رابطہ میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے پارٹی کے داخلی سروے کا بھی ذکر کیا، جس میں کانگریس اتحاد کی حکومت بننے کا اشارہ مل رہا ہے۔
اتحادی پارٹیوں کے ساتھ میٹنگ کے بعد کانگریس نے آسام میں حکومت سازی کا کیا دعویٰ، ایگزٹ پول کو کیا خارج
