غرب اردن اور غزہ میں حزب اللہ کے خصوصی ڈرون پہنچنے کا خوف، تل ابیب پریشان

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی میڈیا نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے ڈرون طیاروں کی غزہ اور غرب اردن آمد پر صہیونی حکام کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، یدیعوت آحارانوت نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب کو اس بات پر شدید تشویش لاحق ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروہ مغربی کنارے اور غزہ میں حزب اللہ کے مخصوص فائبر آپٹک خودکش ڈرونز استعمال کر سکتے ہیں جن ڈرونز کو موجودہ دفاعی نظاموں کے ذریعے روکنا انتہائی مشکل ہے۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا کہ حزب اللہ کے خودکش ڈرونز، جو فائبر آپٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے کام کرتے ہیں، جنوبی لبنان میں صہیونی فوج کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں، کیونکہ ان کے خلاف کوئی خاص اور مؤثر دفاعی نظام موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان ڈرونز کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ عام ڈرونز کی طرح ریڈیو سگنلز کے ذریعے کنٹرول نہیں ہوتے، بلکہ فائبر کے ذریعے ہدف تک پہنچتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں الیکٹرانک وارفیئر یا سگنل جامنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں۔

یدیعوت آحارانوت کے مطابق صہیونی فوج کی اصل تشویش صرف جنوبی لبنان تک محدود نہیں، بلکہ سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ یہی ٹیکنالوجی غرب اردن اور غزہ میں بھی پہنچ سکتی ہے، اور فلسطینی گروہ اسے اپنے حملوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔

اخبار نے لکھا کہ حزب اللہ کے خودکش ڈرون حملوں کے نتیجے میں صرف 24 گھنٹوں کے دوران 36 صہیونی فوجی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ان ڈرونز کی رینج 15 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ موجودہ صہیونی نگرانی اور دفاعی نظام ان ڈرونز کو بروقت پکڑنے میں ناکام رہتا ہے، کیونکہ یہ روایتی طریقوں سے مختلف انداز میں کام کرتے ہیں اور ان کی سرگرمیوں کا پتہ لگانا آسان نہیں۔

یدیعوت آحارانوت نے اعتراف کیا کہ چونکہ ان ڈرونز میں ریڈیو ویوز استعمال نہیں ہوتیں، اس لیے صہیونی فوج کے پاس انہیں روکنے کے لیے وہ طریقے بھی مؤثر نہیں رہے جو عام طور پر ڈرون حملوں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *