قابل ذکر ہے کہ فروری 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں تشدد، آتش زنی اور پتھر بازے کے کئی واقعات پیش آئے تھے۔ یہ تصادم شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کی حمایت اور اختلاف کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد کئی علاقوں میں بھیڑ آمنے سامنے آ گئی، جس سے حالات بے قابو ہو گئے۔ ان فسادات میں 50 سے زائد لوگوں کی موت ہوئی اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ گھروں، دکانوں اور مذہبی مقامات کو نقصان پہنچا۔ بعد میں پولیس تحقیقات، گرفتاری اور عدالتوں میں سماعت کے ذریعہ معاملہ کی تحقیقات جاری رہی، جبکہ اس واقعہ نے لا اینڈ آرڈر اور سماجی ہم آہنگی پر سنگین سوال کھڑے کیے۔
دہلی فسادات معاملہ: عدالت نے 10 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنیاد پر کیا بری
