عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایک نابالغ لڑکے کو موٹر گاڑی چلاتے ہوئے پایا گیا تھا۔ مذکورہ گاڑی سری نگر کے علاقے فتح کدل کے رہائشی ہارون خان کی ملکیت تھی۔ ٹریفک حکام کی جانب سے چالان پیش کیے جانے کے بعد ہارون خان اپنے وکیل کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے اور گاڑی کے مالک ہونے کا اعتراف کیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کی دفعہ 199-اے اور دفعہ 180 کا جائزہ لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی نابالغ موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو گاڑی کے مالک یا سرپرست کو اس کا ذمہ دار تصور کیا جائے گا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے ہارون خان کو قصوروار ٹھہرایا۔
